BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق کے لیے حکمتِ عملی کا فقدان
کرنل ٹم کولن
کرنل ٹم کولن: فوجیوں کے کردار کے معترف لیکن جنگ کے ناقد
برطانوی فوج کے ایک کرنل نے الزام لگایا ہے کہ اتحادیوں کے پاس عراق میں جنگ کے بعد کی صورتِ حال سے عہدہ برا ہونے کے لیے کوئی حکمتِ عملی نہیں تھی۔

کرنل ٹِم کولن کا کہنا ہے کہ عراق پر حملہ کرنے والوں کو چاہیے تھا کہ وہ سوچتے کہ جنگ کے بعد کی حکمت عملی کیا ہو گی۔ یاد رہے کہ کرنل ٹم اب
فوج چھوڑ چکے ہیں تاہم وہ اس سے قبل عراق جا چکے ہیں۔ وہ عراق میں تعینات برطانوی فوجیوں کے سامنے اپنی جوشیلی تقاریر کے لیے بھی داد پا چکے ہیں۔

بی بی سی ریڈیوفور سے باتیں کرتے ہوئے کرنل ٹم نے کہا کہ عراق میں جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی کے فقدان کو دیکھ کر وہ عراق پر حملے کو تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا 'اس جانب بہت کم توجہ دی گئی تھی کہ جنگ کے بعد عراق میں کیا ہو گا ۔ اگر آپ ایک چیز تباہ کرتے ہیں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ وہاں ایک متبادل چیز تعمیر کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر آپ کو نتائج کا سا منا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔'

جنگ کے بعد کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ عراق پر حملوں کا واحد مقصد صدام حسین پر غصہ نکالنا تھا اور حملہ کرنے والوں کو اس سے کچھ غرض نہیں تھی کہ عراقی عوام پراس جنگ کے کیا اثرات ہوں گے۔

کرنل ٹم پرگزشتہ سال جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام لگایا گیا تھا تاہم بعد ازاں فوجی عدالت نے انہیں اس الزام سے بری قرار دے دیا تھا۔ انہوں نے ان دو اخبارات کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی جیت لیا تھا جنہوں نے ان پر جنگی جرائم کا الزام لگایا تھا۔

کرنل ٹم کے اس بیان سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان بھی عراق پر حملے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکی قیادت میں عراق پر حملہ ایک غیرقانونی حرکت تھا اور اس سے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے مطابق جنگ کے بارے میں فیصلہ سکیورٹی کونسل کو کرنا چاہیے تھا۔ انہیں نے یہ بھی کہا کہ اگر عراق میں امن و عامہ
کی صورتِ حال خراب ہی رہتی ہے تو وہاں پر انتخابات کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔

کوفی عنان کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانیہ کی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹ کے امورِخارجہ کے ترجمان، سر مینزیز کیمبل، نے کہا ہے کہ یہ بیان ٹونی بلیئر کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں ہے۔ ان کے مطابق سیکرٹری جنرل کے بیان سے برطانوی حکومت کے عراق پر حملے کے فیصلے کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔

سر مینزیز کیمبل نے کہا کہ ایک غیر قانونی جنگ کے تباہ کن نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ان پر برطانوی اور امریکی حکومتوں کا کچھ بس نہیں چل رہا۔

ان کا کہنا ہے ’وزیراعظم بلیئر بمشکل عراق پر حملے پیدا ہونے والے ایک معاملے سے اپنی جان چھڑاتے ہیں کہ دوسرا انہیں پکڑ لیتا ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد