| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق: مسجدوں پر حملے کیوں؟
مسجدوں اور مذہبی رہنماؤں پر حملوں سے عراق میں شیعہ اور سنیوں کی درمیان مذہبی کشیدگی کی صورت حال ابھر کر سامنے آئی ہے۔ جب بھی کسی مسجد یا مذہبی ادارے پر حملہ ہوتا ہے تو دونوں فرقوں کے مشتعل افراد یا تو ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہیں یا پھر عراق میں امریکی قابض فوج پر کوتاہی کا الزام لگاتے ہیں۔ حال ہی میں بقوبہ کی شیعہ مسجد پر حملے کے بعد مقامی شیعوں نے اسرائیل اورامریکہ پر خون خرابے کا الزام لگایا۔ فرقہ وارانہ تشدد سے دونوں شیعہ اور سنی برادریاں متاثر ہوئی ہیں۔
عراق میں اکثریتی فرقے کے لئے ان کے اعلیٰ ترین رہنما محمد الباقر اور دوسرے درجنوں افراد کی اگست میں نجف میں ہلاکت ایک بہت بڑا سانحہ اور فتنہ انگیز واقعہ تھا۔ سنیوں کو بھی نقصانات اٹھانے پڑیں ہیں، تاہم اتنے بڑے پیمانے پر نہیں۔ اس سب کے نیچے ایک مسلسل سلگتا ہوا فرقہ وارانہ تصادم ہے جو اکثر خبروں اور رپورٹوں میں نظر نہیں آتا۔ بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں تین واقعات ایسے ہوئے جن میں سنیوں پر بغداد میں اس وقت حملے ہوئے جب وہ مسجدوں سے باہر آ رہے تھے ان حملوں میں ہلاکتں بھی ہوئیں۔ سنیوں نے ان حملوں کے لئے شدت پسندوں شیعوں کو ذمہ دار ٹھہرایا، تاہم ذرائع ابلاغ میں عام طور پر یہ خبریں شائع نہیں ہوئیں۔ کسی بھی ایسے شخص کے لئے مسجد ایک انتہائی موزوں مقام ہے جو عراق میں مذہبی کشیدگی کو ہوا دینا چاہتا ہو۔ جہاں تک امریکی یا اتحادی افواج پر حملوں کا تعلق ہے تو اس میں فخر کا احساس بھی شامل ہو سکتا ہے جب کہ مسجدوں پر حملوں سے لوگ مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور انتقام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ گو شیعہ۔سنی کشیدگی دنیا کے ہر اس ملک میں پائی جاتی ہے جہاں دونوں فرقوں کے لوگ رہتے ہیں، لیکن عراق میں صدام حکومت کے دوران اس طرح کے تنازعات دبے رہتے تھے۔ لیکن صدام دور کے خاتمے کے بعد دونوں فرقے عراق میں سیاسی اقتدار کے لئے جستجو کر رہے ہیں۔ جہاں تک ایک قابض فوج پر مقبوضہ ملک کی آبادی کے تحفظ کی ذمہ داری کے فرض کا سوال ہے تو ایک مبصر کے بقول امریکی فوج اپنی حفاظت میں اتنی مصروف ہے کہ عراقیوں کی فکر کرنے کے لئے اس کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||