بغداد: 960 ہلاک، تین روزہ سوگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کےدارالحکومت بغداد میں كاظميہ مسجد کے قریب امام موسٰی کاظم کے یومِ شہادت پر مچنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں عراقی وزارتِ داخلہ کے اعلان کے مطابق نو سو ساٹھ عزادراروں ہلاک اور چار سو ساٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ عراق کے حکام نے اس سانحے پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے عراقی پولیس کے حکام کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات سو تک پہنچ سکتی ہے۔ حضرت امام موسیٰ کاظم کے یومِ شہادت پر نکالے جانے والے جلوس میں شامل لاکھوں افراد مزار کی طرف جانے کے لیے دریائے دجلہ کے پل سے گزر رہے تھے کہ کسی نے خود کش حملہ آور کی موجودگی کی افواہ اڑا دی جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ دریائے دجلہ کے پل سے نیچے گر گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں ایک ہزار سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ سرکردہ مذہبی شیعہ رہنماؤں نے اس واقعے کی ذمے داری معزول صدر صدام حسین کے حامیوں پر ڈالی ہے۔ ابتدائی اطلاعت میں عراق کے وزیر دفاع نے بتایا کہ اس حملے میں صرف سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھگدڑ کا علاقے میں پائی جانے والی فرقہ وارانہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ پُل کے حصے پر تلاشی لی جانی تھی جس سے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے اور وہاں کسی کی ایک چیخ سنائی دی اور اس کے بعد ’یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||