BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 February, 2006, 13:40 GMT 18:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سامرہ دھماکے اور خانہ جنگی

سامرہ، عراق میں شیعہ مزار عسکری میں دھماکوں کے بعد پولیس کو بغداد میں کم از کم پچاس لاشیں ملی ہیں۔ العربیہ ٹی وی کے تین صحافی قتل کر دیئے گئے ہیں جبکہ ایک اور واقعے میں جنوبی شہر بصرہ میں مسلح افراد نے ایک جیل میں گھس کر کم از کم گیارہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

ملک بھر میں کئی سنی مساجد پر حملے ہوئے ہیں جب کہ عراقی دارالحکومت میں کرفیو کا نفاذ کردیا گیا ہے۔ عراقی رہنماؤں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے مگر ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی ہے کہ ملک میں خانہ جنگی پھیل سکتی ہے۔

کیا سامرہ میں ہونے والے دھماکوں کے بعد خانہ جنگی کی آگ ملک بھر میں پھیل سکتی ہے؟ عراق میں اہلِ تشیع اور سنیوں کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟ کیا اس خانہ جنگی کے اثرات دیگر مسلم ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں؟ آپ کا اس پر کیا ردًِعمل ہے؟

آپ کی رائے

راشد علی، سپین:
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی مسلمان چاہے وہ کسی بھی فقہ سے تعلق رکھتا ہو وہ ایسے مزار پر حملہ کرے۔ یہ فرقہ بندی کی کوشش ہے۔ اللہ کرے ہمارے بھائی دشمن کی چالیں سمجھتے ہوئے اتحاد کی طرف بڑھیں۔

عامر بھٹی، اسلام آباد:
چاہے حملے شیعہ پر ہوں یا سنی پر اس کا فائدہ یقیناً دونوں کو نہیں پہنچے گا۔ اس سے یہ بات طے ہے کہ اس کے پیچھے کوئی اور ہے۔ خانہ جنگی تو وہاں پہلے سے ہو رہی ہے لیکن جو کوشش متحد ہونے کی ہو رہی تھی اس کو ضرور نقصان پہنچا ہے۔

مہر افشاں ترمزی، سعودی عرب:
ہم ہرقسم کے ظلم کے خلاف ہیں چاہے وہ کسی غیر مسلم پر ہی ہو۔ سنی یا شیعہ تو پھر ایک اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں۔ بات صرف اتنی ہی ہے کہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہ ہر آپ صرف دشمن کے عزائم کی تکمیل ہی کر سکتے ہیں۔ کا ش جذبات میں اندھے ہونے والے اس بات کو سمجھ سکتے۔

افشاں طالب، حیدر آباد:
ان دھماکوں کے پیچھے سنی نہیں ہیں۔ ایک عام آدمی بھی یہ بات سن سکتا ہے۔ جن لوگوں نے سنیوں کو قتل کیا اور ان کی مسجدوں کو آگ لگائی وہ شیعہ نہیں ہیں۔ وہ سازش کرنے والوں کے ساتھی ہیں۔ یہ ایک بھرپور کوشش تھی کہ سنی اور شیعہ کی لڑایا جا سکے۔ اپنے مسئلوں کو خود ہی حل کر لینا چایے۔ بات صرف اتنی سی ہے ’توجب جھکا غیر کے آگے، نہ تن تیرا نہ من تیرا‘۔

غلام، کینیڈا:
یہ حملے عراق میں امریکہ نے کرائے ہیں تا کہ وہاں خانہ جنگی شروع ہو جائے۔

اعجاز اعوان، کراچی:
یہ حقیقت ہے کہ اس دھماکے میں سنیوں کا ہاتھ نہیں ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ کون ہے پردے کے پیچھے۔ کس کو عراق میں امن درکار نہیں۔

علی عباس، پاکستان:
جناب پچھلے 36 سالوں سے شیعہ جارہانہ حملوں کا نشانہ تھے۔ اب امام کی قبروں پر بھی بمب برسیں اور آپ اہلِ تشیعہ کو جارہانہ کا طعنہ دیں۔

سید حیدر رضا رضوی، کینیڈا:
غیر مسلم اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم میں بھی کچھ خرابیاں ہیں۔ سارا امریکہ کا قصور نہیں ہے۔

حافط شفیق الرحمان، لاہور:
یہ سب سی آئی اے کا کیا دھرا ہے۔ کوئی سنی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ سی آئی اے تحریک ناموس رسالت سے مسلمانوں کی توجہ ہٹا کر ہمیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ عراق میں سنی اور شیعہ مسلم ایک دوسرے کی مساجد میں نمازیں پڑھ رہے ہیں۔

عارف جبار قریشی، پاکستان:
یہ امریکہ کی نئی سازش ہے۔ اس خانہ جنگی کے اثرات دیگر مسلمان ملکوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اہلِ تشیعہ اور اہلِ سنت کے علماء نے اگر جلد اس کا حل نہ نکالا تو اس آگ کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ روضے کی شہادت افسوس ناک کاروائی ہے۔

عمران احمد اعظمی، انڈیا:
یہ ایک بد ترین سانحہ ہے۔ الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ میں کچھ بھی لکھنے سے قاصر ہوں۔ بس دعا ہے کہ اللہ عراقی مسلانوں کو صبر اور سمجھ دے۔ امین

ظفر حسین، آسٹریلیا:
یہ سب کام اسلام دشمن عناصر کا ہے۔ سنیوں اوراہل تشیعہ کو لڑوا کر وہ اس مقصد میں کامیاب رہے۔

احمد خان، پشاور:
کیا آپ کے خیال میں مسلمان مسجد پر حملہ کر سکتے ہیں؟ کیا ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ مسلمانوں کی یکجہتی کو ختم کرنے کے لیے یہ ایک سازش ہے؟

راشد کیانی، جہلم:
میرے خیال میں عراق صرف صدام حسین ہی کنٹرول کر سکتے ہیں۔ امریکی ناکام ہو گئے ہیں۔ امریکہ کو چاہیے کہ صدام کو آزاد کر دے۔

میر شاہ مراد، تالپور:
اللہ نہ کرے کہ عراق میں خانہ جنگی ہو۔ سنی ہو یا شیعہ ان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی مسلمان ایسی حرکت کبھی نہیں کر سکتا۔

امین، نامعلوم:
مزار عسکری کو جو یزیدوں نے نقصان پہنچایا ہم کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔ مگر یہ سازش تھی۔ سنی ہمارے بھائی ہیں وہ یہ نہیں کر سکتے۔ کرنے والا کوئی اور ہے۔

انیس علی بھنگش، گوجرانولہ:
سامرہ میں تو روضہ امام علی نقی اور روضہ امام حسن عسکری پر دہشت گردی کی گئی وہ کسی بھی انسان کا کام نہں بلکہ شیطان کا فعل ہے۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد:
یہ سب کچھ محض مسلم امہ کی توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیل یا اس کے حواریوں نے کھیل رچایا ہے تا کہ وہ مسلمان جو اس وقت کارٹونوں کی شیطانی سازش پر متحد ہیں ان کا ایک نئے انداز میں مذاق اڑایا جائے اور ان کی بے بسی پر ہنسا جائے۔

یہ شیطان کا فعل ہے
 سامرہ میں تو روضہ امام علی نقی اور روضہ امام حسن عسکری پر دہشت گردی کی گئی وہ کسی بھی انسان کا کام نہں بلکہ شیطان کا فعل ہے۔
انیس علی بھنگش، گوجرانولہ

مہر افشاں ترمزی، سعودی عرب:
افسوس ہو ا یہ دیکھ کر کہ سنیوں کا رویہ مدافعانہ ہے اور شیعوں کا جارہانہ ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان خود ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے تو امریکہ اور یہودی کیوں کریں۔ ہم مسلمان ایک نہیں ہیں تباہی کیوں نہ ہمارا مقدر بنے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ:
یہ امریکہ اور یہودیوں کی سازش ہے تا کہ مسلمانوں کی کارٹونوں پر سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

ریحان شیخ، لاہور:
اس صورتِ حال سے فائدہ صرف اور صرف امریکہ کو ہے۔ لہذا تمام مسلمانوں کو متحد ہو کر عراق میں موجود امریکی فوج اور اس کے حامیوں کے خلاف جہاد کرنا ہے چاہیے جب تک یہ لوگ گلی گلی امریکہ سے نہیں لڑیں گے ان کو اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا رہے گا۔ خانہ جنگی شروع ہی کرنی ہے تو وہ امریکی فوج کے خلاف ہونی چاہیے۔

عزیز اعوان، پاکستان:
عراق میں جو ہو رہا ہے وہ واقعی قابلِ افسوس ہے اور بہت دکھ ہو رہا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ یہ جنگ روک جائے اور سمجھ میں آ جائے کہ یہ عراقیوں کے خلاف گہری سازش ہے۔ اس سے عراقیوں کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ سارا کچھ امریکہ کروا رہا ہے لیکن اللہ پاک کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔

عامل ڈار، سرگودھا:
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب سنیوں کی حکومت تھی تب تو کسی نے سامرہ پر بمب نہیں برسائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ صرف عراقی بلکہ تمام مسلمانوں کےلیے مقدس مقامات ہیں۔ اس کے پیچھے وہ ہاتھ ہیں جن کی دوستی کا ہم دم بھرتے ہیں۔

کامران مطلوب، یو کے:
یہ دونوں امام اہل تشیعہ سے زیادہ سنیوں کو عزیز ہیں۔ ایسا کام کرنا تو دور کی بات کوئی سنی ایسا کرنے کے بارے می ںسوچ بھی نہیں سکتا ۔ ایسا کرنے والے یقیناً مسلمان نہ تھے۔ اللہ سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔

عرفان علی، فیصل آباد:
میرے خیال سے یہ سب مسلمان قوم کی بے اتفاقی ہے جو یہ یورپی اور غیر مسلمان نہ صرف ان کے املاک کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ ان کے مذہب کوبھی رسوا کر رہے ہیں۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے اور کنٹرول لے کر جو کام کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں انسان مر رہے ہیں ان کا کون ذمہ دار ہے۔ عراق میں جس طرح قتل عام چل رہا ہے اس کی مثال شاید ہی کہیں تاریخ میں ملتی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اسی طرح سے سب کچھ چلتا رہا تو بہت جلد ایسا وقت پاکستان پر بھی آنے والا ہے۔

رحمت زادہ خٹک، دبئی:
عراق میں امریکہ کی مہربانی سےخانہ جنگی تو پہلے ہی چل رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہےکہ مزار کا یہ واقع جلتی پر تیل کا کام دے رہا ہے۔ امریکہ کے قبضے سے پہلے عراق میں زیادہ لوگ مرتے تھے یا اب؟

جاوید گوندل، سپین:
امریکہ اسرائیلی اور یورپ کی کچھ یہودی نواز حکومتیں مسلمانوں کے خلاف ایک کے بعد دوسرا شوشہ چھوڑ رہی ہیں۔ عراق میں مسجد اور مزار کو شہید کیا ہے تاکہ عراقی مسلمان امریکہ کو بھول بھال کر خانہ جنگی میں مشغول ہو جائیں۔ جہاں جہاں تک یہ آگ جائے گی مسلمانوں کا ہی نقصان ہو گا۔ امریکہ کی عراق میں آمد سے پہلے توحالات ایسے نہیں تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی فرعون کا جب آخری وقت آتا ہے تو وہ ہر قسم کے اخلاقی حدود سے تجاوز کر جاتا ہے۔

جاوید حسین، پارہ چنار:
شیعہ بہت صبرو استحکام والے لوگ ہیں۔ ان یہودیوں اور امریکی ایجنٹوں کی طرح سوچ نہیں رکھتے۔ ان کا اپنا ملک ہے شیعہ اپنا ملک تباہ نہیں کرنا چاہتے۔ یہ دھماکے سنی مسلمانوں نے یہودیوں اورامریکیوں کے کہنے پر کئے ہیں۔

عمران حسین، کینیڈا:
یہودیوں اور امریکہ کا منصوبہ ہے کہ اپنے مقاصد کو اصل کرنے کے لئے عراق کو تقسیم کیا جائے۔ کارٹونوں کے ایشو کے بعد مسلمان متحد ہو گئے تھے لیکن اس ایشیو کے بعد مسلمان متحد نہیں رہے۔

جواد احمد، نامعلوم:
آپس کی نفرت کا غیروں نے فائدہ اٹھنا تھا اٹھا لیا۔ آج عسکری مزاروں پر حملہ ہوا سنی خاموش بیٹھے ہیں۔ کل کہیں اور حملہ ہو گا اور شیعہ خاموش بیٹھیں گے۔ ان کے تھنک ٹینک یہ ہی تو منضوبہ بندی کرتے ہیں۔

غیروں نے فائدہ اٹھانا تھا
 آپس کی نفرت کا غیروں نے فائدہ اٹھنا تھا اٹھا لیا۔ آج عسکری مزاروں پر حملہ ہوا سنی خاموش بیٹھے ہیں۔ کل کہیں اور حملہ ہو گا اور شیعہ خاموش بیٹھیں گے۔ ان کے تھنک ٹینک یہ ہی تو منضوبہ بندی کرتے ہیں۔
جواد احمد

علی حسن، لندن:
کارٹونوں کی اشاعت کے بعد تمام مسلمان متحد ہو گئے تھے جو مغرب کے لیے اچھی خبر نہیں تھی۔ یہ دھماکہ مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ اللہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور میری یہ دعا ہے کہ مسلمان یہ پہچان سکیں کہ ان کا اصل دشمن کون ہے۔

محمد سید، پاکستان:
سامرہ کے بمب دھماکے کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ امریکہ عراق میں دہشت گردوں کی امداد کر رہا ہے۔ اب یہ بات واضح ہے کہ بش اور بلئیر دونوں ہی عراق کی صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں۔ اگر عراق میں شیعہ سنی خانہ جنگی ہوئی تو امریکہ ہی کی شہ پر ہو گی۔ اس کی تمام ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔

شاہد ظفر، کینیڈا:
یہ مقدس مزار عراقی سنیوں کے لیے نئے نہیں ہیں۔ وہ وہاں پر صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ وہ ان مزاورں پر لڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ وہ کس طرح ان مزاروں پر دھماکہ کر سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے یہ کیا ہے وہ عراق کے باہر سے ہو سکتے ہیں۔ ان کا مقصد عراق میں خانہ جنگی شروع کرنا اور نئی حکومت کو کمزور کرنا تھا۔ عراقیوں کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور اس مسئلے کو عقلمندی سے حل کرنا چاہیے۔

علی عمران شاہین، لاہور:
اگر سارے شیعہ لوگ سنیوں کی طرح امریکی قبضے کے خلاف جنگ کرتے تو آج یہ نوبت ہی نہ آتی۔ شیعہ لوگ جنگ کی بجائے فوج میں شامل ہو گئے اور امریکی قبضہ مضبوط کیا۔

خالد مسعود ملک، کینیڈا:
کسی بھی مقدس اور مذہبی جگہ کو بمب سے اڑانا کم از کم مسلمانوں کا کام نہیں ہے۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا ہے ان کا مقصد یہ ہی ہے کہ کسی صورت مسلمانوں مں اتحاد نہ ہو نے پائے۔ ان میں انتشار پھیلے اور عراق میں کسی طرح کا استحکام نہ ہونے پائے۔

علی کاظمی، کینیڈا:
امریکہ اور اسرائیل کو عراق میں تباہی سے فائدہ ہو رہا ہے۔ آخر میں ان کا احتساب ہو گا۔

اسیر ابو حبیب، دبئی:
آپ بی بی سی والے اس واقعے کو شیعہ سنی کے درمیان کیوں لکھتے ہیں؟ کیا اپ کو پتا ہے کہ دھماکے سنیوں نے کیے ہیں؟

سید جعفر، امریکہ:
کچھ دن پہلے تک مسلمان پوری دنیا میں یکجہ ہو کر کارٹونوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ آج جب اہل تشیعہ کے مقدس مزاروں پر دھماکے ہوئے تو مسلمانوں نے اس طرح احتجاج نہیں کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنی اور اہل تشیعہ کے درمیان کتنے اختلافات ہیں۔

فیض خان، پشاور:
اس واقعے میں کوئی مسلمان ملوس نہیں۔ یہ مقدس مقامات ہر مسلمان کے لیے مقدس ہیں۔ ان سب کے پیچھے وہی لوگ ہیں جنہوں نے 11 ستمبر جیسے واقعات کروا کر مسلمانوں کو بدنام کیا۔ یہ سب صرف عراق میں خانہ جنگی کو ہوا دینے کیلئے ہے۔ اب تک شیعہ بھائیوں نے عقل مندی سے خانہ جانگی کو روکا ہوا ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
جس ملک کا صدر اور وزیراعظم محکوم ہوں تو وہاں کی عوام کا کیا حال ہو گا؟

تقسیم کرو اور راج کرو
 تقسیم کرو اور راج کرو، یہ برٹش کی پرانی ترکیب ہے اور اب امریکی اس کااستعمال کر رہے ہیں۔
ندیم الدین، ٹورانٹو

عدیل خاکی، کراچی:
یہ دھماکے جس نے بھی کیے ہیں اس سے کم از کم مسلمانوں کو تو فائدہ نہیں ہو سکتا چاہے شعیہ ہو یا سنی۔ اس کا سارا فائدہ امریکہ اور مغرب کو ہو گا۔ ان دھماکوں کی وجہ سے ساری دنیا میں جو مغرب کے خلاف ماحول بنا ہوا تھا وہ شاید تبدیل ہو جائے۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان، کراچی:
یہ امریکی سازش ہے۔ کیونکہ مجاہدین نے ان کے جان و مال کا شدید نقصان کیا ہوا ہے۔ ان لوگوں نے یہ دھماکے کروا کر مسلمانوں کو لڑوانے کی ناکام کوشش کی ہے۔

شرمین بلوچ، سکھر:
یہ آگ اپنے ہی حکمرانوں کی لگائی ہوئی ہے۔ ان کو صرف اقتدار چاہیے چاہے عوام کے سر کو سیڑھی بنا کر ہی کیوں نے حاصل کیا جائے۔

مشراق القریش، امریکہ:
یہ شیعہ سنی کی لڑائی نہیں ہے ا سکے پیچھے سی آئی اے ہے۔ عراقی اس نازک موڑ پر یہ حرکت کیوں کریں گے جب انہیں اتحاد کی ضرورت ہے۔

مظفر احمد قریشی، امریکہ:
ان واقعات کے پیچھے صرف اور صرف یہودی ہیں جنہوں نے اسلام کو کبھی پسند نہیں کیا۔

ندیم الدین، ٹورانٹو:
تقسیم کرو اور راج کرو، یہ برٹش کی پرانی ترکیب ہے اور اب امریکی اس کااستعمال کر رہے ہیں۔

رضا مہدی، کراچی:
یہ اسلام دشمن سازش ہے۔

انجم ملک، جرمنی:
میری رائے میں یہ کام سنیوں کا بالکل بھی نہیں ہے۔ یہ تیسری طاقت کا کیا دھرا ہے جو عراق میں افرا تفری پھیلا کر لمبے عرصے تک رہنے کا جواز چاہتے ہیں۔

احمد سید، ٹورانٹو:
کارٹونوں سے توجہ ہٹانا بھی ضروری تھا اور عراق میں مستقل ٹھکانے کا بہانہ بھی چاہیے۔

فردوس رانا، فیصل آباد:
یہ بہت ہی نازک وقت ہے، عقل سے کام لینے کا وقت ہے۔ صاحب بہادر یہ چاہتے ہیں کہ عراق چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ جائے اور کوئی مظبوط حکومت نہ بن سکے تا کہ کوئی اسرائیل کے خلاف نہ اٹھ سکے۔

عبدالوحید، میری لینڈ، امریکہ:
ایم ایس این بی سی کی ویب سائٹ پر تئیس فروری کو ایک خون آلود چہرے والی ماں کی تصویر جس نے اپنے دو بیٹوں کے جوتے تھام رکھے ہیں جو سامرہ دھماکوں میں ہلاک ہوئی اور اس کی آنکھوں کے تاثرات ایک دہشتناک وارننگ ہیں نہ صرف سنی یہ شیعہ لوگوں کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لیے۔ اگر ذرا سی طاقت رکھنے والے تمام انتہا پسند خواہ وہ مغرب سے ہوں یا مشرق سے اور سچے خدا پر یقین رکھتے ہیں، اب بھی جلد باز نہ آئے تو شاید لڑنے کے لیے کچھ نہ بچے۔

نجم الحسن کھوسہ، ڈیرہ غازی خان:
میرے خیال میں ان دھماکوں میں نہ تو کوئی سنی ملوث تھا اور نہ ہی شیعہ۔ کوئی مسلمان یہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے جو وہاں پر امن نہیں چاہتا۔ وہ تو تیل لوٹنے آیا تھا اور لوٹ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جس میں عراقیوں کو اپنی عقلمندی اور جرات کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر وہ یہ کر گئے تو ملک بچ جائے گا اور اگر نہ کر سکے تو بہت بری تباہی مچ سکتی ہے۔ اس میں خصوصاً عمائے کرام کو بہت اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

کارٹونوں سے توجہ ہٹانا ضروری تھا
 کارٹونوں سے توجہ ہٹانا بھی ضروری تھا اور عراق میں مستقل ٹھکانے کا بہانہ بھی چاہیے۔
احمد سید، ٹورانٹو

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
ابھی کیا خانہ جنگی دور کھڑی ہے؟ ہر گھر میں تو گھس چکی ہے اور ابھی زیادہ پھیلے گی۔ آخر ایک ہی خدا کے نام لیوا ایک دوسرے کو مار کر کیوں خود کو رسوا کررہے ہیں۔ مقدس مقامات پر دھماکے یقیناً قابلِ مذمت ہیں مگر نجانے کیوں یہ لگ رہا ہے کہ اس سب کے پیچھے کوئی اور چھپا ہوا ہے۔

محمد ثاقب، ایبٹ آباد:
یہ مسلمانوں کے خلاف ایک دہشت گردی اور سازش ہے۔

شبیر سادا، بکھر:
انشاء اللہ خانہ جنگی نہیں ہوگی۔

شہر بانو، امریکہ:
بربادیوں میں اہلِ زمیں خود کفیل ہیں
اب آسماں سے بھیج نہ آفات اے خدا

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کی تصاویرآپ کی رائے
عراقی قیدیوں سے بدسلوکی
کیا سماعت منصفانہ ہوگی؟ آپ کا ردِّعملصدام پرمقدمہ شروع
کیا سماعت منصفانہ ہوگی؟ آپ کا ردِّعمل
نجفنجف میں لڑائی
نجف میں امریکی کارروائی پر آپ کی رائے
عراقی انتخابات: آگے کیا ہوگا؟عراقی انتخابات
آپ کی رائے:عراق کے مسئلے کا دیر پا حل؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد