عراق کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ تاہم تشدد کے واقعات حسب معمول جاری ہیں۔ انتخابات سے پہلے ہی امریکی صدر بش نے اس بات کا اعتراف کر لیا تھا کہ عراق پر حملہ ناقص انٹلیجنس کی بنیاد پر کیا گیا۔ رائے شماری کے حالیہ جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر امریکی شہری عراق کے حوالے سے صدر بش کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ کچھ امریکی ارکان پارلیمان نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ امریکی افواج کو کب تک عراق میں رہنا چاہیے۔ کیا یہ انتخابات عراق سے امریکہ اور اتحادی افواج کی ’ایگزٹ سٹریٹجی‘ کا حصہ ہیں اور ان انتخابات کے بعد کیا امریکہ اور اتحادی افواج عراق سے انخلا شروع کر دیں گی؟ کیا اس صورت میں عراق میں حالات بہتر ہونگے یا مزید بگڑیں گے؟ آپ کے خیال میں عراق کے مسئلے کا دیر پا حل کیا ہے؟
یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
شاہ مراد تالپور، حیدرآباد، پاکستان: وہی ہوا جو افغانستان میں ہوا۔ امریکہ آیا، الیکشن ہوئے، کرزئی آیا۔۔۔بس چل رہی ہے حکومت کرزئی کی امریکہ کے آشرواد سے۔ عراق میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ کل ایک صدر آئے گا۔ اگر امریکہ کو پسند آیا تو ٹھیک ہے ورنہ کوئی اور آ جائے گا۔۔۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: عراقی انتخابات طے شدہ ڈرامے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے، مجھے تو نہیں لگتا کہ وہ عراق کو چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ ان انتخابات کے بعد عراق میں صورت حال مزید بگڑ جائے گی۔ ان سے عراق کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان ہی ہوگا۔ عطیہ عارف، کینیڈا: ظاہر ہے کہ یہ ایک ڈرامہ ہے۔۔جب تک امریکہ کت فوج واپس نہیں چلی جاتی عراق کے حالات کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتے۔۔۔مگر ہم مسلمان بس کچھ جان بوجھ کر بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھے ہیں۔۔۔ سید بادشاہ، امریکہ: امریکہ نے عراق پر صرف تیل کی وجہ سے حملہ کیا اور اب عراق کی صورت حال بہتر کرنے میں سو سال لگ جائیں گے۔۔۔ عارف جبار قریشی، سندھ، پاکستان: انتخابات سے عراق کے حالات ٹھیک نہیں ہونگے۔ امریکی فوج کے واپس نہ جانے تک حالات ایسے ہی رہیں گے۔ عراق کے مسئلے کا حل اس میں ہے کہ وہاں جو بھی گروپ اکثریت میں ہوں اقتدار ان کے حوالے کر کے امریکہ وہاں سے چلا جائے ورنہ یہ قتل عام اسی طرح ہوتا رہے گا۔ انجینیر عرفان امین، اسلام آباد، پاکستان: مجھے یقین ہے کہ کوئی مستقل تبدیلی نہیں آئے گی، ایک پپٹ حکومت دوسری پپٹ حکومت سے تبدیل ہو جائے گی۔ یہ عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے امریکہ کی ایک کوشش ہے، تا کہ ایک سول وار کی کیفیت پیدا کی جا سکے اور کم سے کم فوج سے تیل کے ذخائر پر قابو رکھا جا سکے۔ آفاف اظہر، ٹورانٹو، کینیڈا: جمہوریت تو کب کی مرحوم ہو چکی، باقی یہ جمہوریت کے نام کا ڈرامہ تو اب چلتا رہے گا جب تک امریکہ کے دماغ پر طاقت کا نشہ سوار رہے گا۔ آپ پریشان نہ ہوں تسلی رکھیں کیونکہ ابتدائی جمہوریت ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔  | کیسے اور کہاں کے الیکشن؟  کیسے اور کہاں کے الیکشن؟ طاقت ور ملک دنیا پر حملہ کر دیں اور پھر یہ کہیں کہ ہم تو اصلاح کے لیے آئے تھے۔ یہ لاکھوں لوگوں کی جان لے کر کیا انصاف کریں گے۔ جہاد جاری رہنا چاہیے جب تک ان ملکوں کے فوج نہ جائے۔  فیصل چانڈیو، پاکستان |
فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: کیسے اور کہاں کے الیکشن؟ طاقت ور ملک دنیا پر حملہ کر دیں اور پھر یہ کہیں کہ ہم تو اصلاح کے لیے آئے تھے۔ یہ لاکھوں لوگوں کی جان لے کر کیا انصاف کریں گے۔ جہاد جاری رہنا چاہیے جب تک ان ملکوں کے فوج نہ جائے۔عبدلوحید، شارجہ، یو اے ای: یہ سب امریکی ڈرامہ ہے، امریکہ اور عراقی عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے۔ اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ امریکی فوج کو عراق چھوڑنا ہو گا۔ عاظم خان، کشمیر: ایک بات تو سچ ہے مغربی حکومتیں، ان کے ہیڈ، پارلیمنلٹ اور خوفیہ ادارے سب جھوٹے ہیں۔ اگر اسی طرح رہا جس طرح وہ شروع سے بولتے آئے ہیں تو عراق میں امن ہونے والا نہیں۔ حسن عسکری، پاکستان: صدام جیسا قتل و غارت اور دہشتگردی ابھی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مظلوم عوام کی واحد امید الیکش سے ہے۔ امریکی فوج تو ان خونی غنڈووں پر قابو پا نہیں سکتی۔ اب اللہ کرے شاید عوامی حکومت جس میں سب شامل ہں اس پر قابو کرے اور لوگ خوف و حراس سے باہر آئیں اور بیرونی فوجیں بھی واپس جا سکیں۔ علی اصغر، چنیاں، پاکستان: اب تک وہاں کے حالات بگڑے ہیں، اس مظلوم ملت کو نہ تو صدام کے دور میں سکون تھا نہ امریکہ حملے کے بعد بلکہ ان کے مسائل اور دکھ بڑھتے گئے ہیں۔ اگر بش اپنی غلطی کا عتراف کرتے ہیں تو انتخابات کے بعد وہاں سے امریکی فوج کو نکال لیں تاکہ وہ خود اپنی تقدیر سنواریں جیسے وہ چاہتے ہیں اس سے شاید امریکہ کی بھی کچھ عزت بحال ہو جائے۔ وسیع اللہ بھمبھرو، میرپور خاص، پاکستان: کوئی فائدہ نہیں ہو گا، وہی ہو گا جو امریکہ چاہے گا۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: یہ الیکشن محض ایک ڈھونگ ہیں عراقی وسائل کو ضائع کرنے کا اور کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ عراقی الیکشن سے پہلے لازمی تھا کہ اتحادی فوجیں واپس چلی جاتیں اور الیکشن غیر جانبدارانہ کمیشن کی موجودگی میں ہوتے۔ ایک طرف بے گناہ عراقی مارے جا رہے ہیں اور دوسری طرف یہ اس طرح کے کام کر رہے ہیں۔ جو کام کرنے کا ہے وہ کرنا چاہیے۔ آصف ججہ، ٹورانٹو، کینیڈا: پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکیوں نے یو ان او کے سامنے جھوٹ بولا، لیکن کسی نے کچھ نہیں کہا۔ اب عراقیوں کیے قتل اور تباہی کا کون ذمہ دار ہے؟ اگر بش اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں تو دنیا ان کو انٹرنیشنل کورٹ میں بلا سکتی ہے۔ وہ صرف تیل پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور اب وہ پپٹ جمہوریت اور پارلیمنٹ بنانا چاہتے ہیں بلکل پاکستان اور دیگر ملکوں کی طرح۔ آصف محمود میاں، لاہور، پاکستان: زیادہ بہتر حل تو شفاف الیکشن کے ذریعے عراقی عوام کی راۓ سے ہی ممکن ہے۔ جو وہاں کی روایات اور رسم و رواج کے مطابق فیصلہ ہو وہ ہی ان کو قبول ہو گا۔ امریکہ کی اصل نظر تو ان کے تیل کے ذخائراور دولت پر ہے۔ اب تو امریکہ نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے حملے کے بنیاد غلط اطلاع پر مبنی تھی۔ سید تقی شاہ، لندن، یو کے: امریکہ کا عراق پر حملہ غیر قانونی اور جیسا کہ اب بش نے خود تسلیم کیا جھوٹی انٹیلیجنس پر مبنی تھا۔ میں ان الیکشنوں کو ایک طویل ڈرامہ سمجھتا ہوں کیونکہ اس تشدد اور ڈر میں لوگ کس طرح ووٹ کا آزادانہ استعمال کر سکتے ہیں؟ سچائی تو یہ ہے کہ یہ عراق کے تیل پر قبضہ کرنے کی سازش ہے اور بعد میں تمام مشرقِ وسطٰی پر، بلین گیلن تیل بعیر رکارڈ کے عراق سے باہر جا چکا ہے۔ یہ سچ ہے ’گوڈ بلیس امریکہ‘۔ صفدر عباس نقوی، کراچی، پاکستان: بلکل نہیں، عراقی انتخابات کے بعد بھی امریکی فوج وہاں سے نہیں جائے گی۔ میرے خیال میں موجودہ صورتِحال میں عراق کے حالات بہت بگڑیں گے۔ عراق کے مسئلے کا دیر پا حل اتحدای فوجوں کی واپسی میں پوشیدہ ہے۔ عامر کاظمی، کراچی، پاکستان: امریکہ کو عراق سے فوری نکل جانا چاہیے، کیونکہ عراق کی سرزمین ان کے لیے قبرستان نبے گی۔ ان کو جلد از جلد عراقی سر زمین خالی کرنی چاہیے کیونکہ عرب جہادی پوری دنیا سے آ رہے ہیں جہاد کے لیے۔ امریکہ، یو کے، آسٹیریلیا اور ان کے حامی ملک کے خلاف لڑنے کے لیے لحاظہ جتنی جلدی ہو سکے امریکہ کو عراق خالی کرنا چاہیے۔ دلشاد حبیب، گجرات، پاکستان: امریکہ عراق سے جانے کے لیے نہیں آیا۔ حالیہ الیکش عراق میں امریکہ کے قیام کا ایک حصہ ہیں۔ عراق کے حالات ایک ہی صورت میں ٹھک ہو سکتے ہیں جب امریکہ عراق سمیت اس کے ہمسایہ مملک سے بھی باہر نکل جائے، مگر اس کا کوئی امکان دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔ احمد جمیل ترک، لاہور، پاکستان: تمام قابض افواج وہاں سے نکل جائیں، امریکہ دنیا کو اپناغلام بنانے کا خواب چھوڑ دے اور مشرقِ وسطٰی کی عوام کو اپنی مرضی کی حکومت بنانے کا اختیار دیا جائے۔ یہ بات وہاں کے آمر حکمرانوں اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں کو جتنی جلدی سمجھ آ جائے اتنی ہی جلدی سارے خطے میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ |