BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 July, 2004, 13:13 GMT 18:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام پر مقدمہ: آپ کا ردِّعمل
کیا سماعت منصفانہ ہوگی؟ آپ کا ردِّعمل
کیا سماعت منصفانہ ہوگی؟ آپ کا ردِّعمل
عراق کے سابق حکمراں صدام حسین کو عراق میں ایک خفیہ مقام پر قائم عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

عدالتی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ سابق عراقی صدر کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی اور جب ان سے کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق صدام حسین نے اس خصوصی عدالت کو ’ایک ڈرامہ‘ قرار دیا اور کہا کہ اصلی مجرم امریکی صدر جارج بش ہیں۔

صدام حسین اور ان کی حکومت کے دیگر گیارہ اہم ارکان پر جنگی جرائم اور قتلِ عام کے الزامات ہیں۔

صدام حسین کے عراقی تحویل میں دیئے جانے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ان پر چلائے جانے والے مقدمے کی سماعت منصفانہ ہوگی؟ اس عدالتی کارروائی کے عراق پر کیا اثرات ہوں گے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


علی احمد، کراچی: صدام حسین کے سامنے بش، بلیئر اور مشرف کے مظالم زیادہ ہیں، جنہوں نے ملکر بے گناہ انسانوں کا قتل کیا۔ افسوس سارے مسلمان حکمران امریکہ کی حمایت کے لئے انسانوں پر ظلم کررہے ہیں۔ ظلم جو بھی کرے وہ غلط ہے اور اس کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔

شاہد نواز، سرگودھا: صدام کو رہا کردینا چاہئے۔

مسلمان سمجھیں
 خدا کرے کہ مسلمانوں کو سمجھ آجائے کہ صدام نے معصوم عراقیوں پر کیا ظلم ڈھائے ہیں۔
شباب خان، پاراچنار، پاکستان

شباب خان، پاراچنار، پاکستان: صدام کے ظلم و تشدد کی فہرست اتی لمبی ہے کہ ان کے لئے کم سے کم سزا ایک ہزار مرتبہ سزائے موت ہے۔ خدا کرے کہ مسلمانوں کو سمجھ آجائے کہ صدام نے معصوم عراقیوں پر کیا ظلم ڈھائے ہیں۔ اور مجھے افسوس ہے کہ مسلمان قران کی تعلیمات پر غور نہیں کرتے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور وہ صدام کی حمایت کرتے ہیں۔

ہیملیٹ سینیئر، لندن: صدام حسین ہی واحد فیکٹر ہیں جو جارج بش کے لئے انتخابات میں جیتنے کا سبب بن سکتے ہیں۔جہاں تک انصاف کا سوال ہے تو اس کے بارے میں کس کو فکر ہے؟ بش کو؟

شبیر اورکزئی، دوحہ: میرے خیال سے امریکہ کا ایک نیا چال ہے۔ اور عراقیوں کا دھیان اپنے سے اٹھانے کے لئے ایک اور کوشش کررہا ہے۔ اور جہاں تک صدام کا سوال ہے مجھے نہیں لگتا کہ عدالت غیرجانبدار قدم اٹھائے گی کیونکہ یہ سب امریکہ کے بل بوتے پر ہی ہورہا ہے۔

احمد صدیقی، کراچی، پاکستان: آج کل متبادل پریس میں چہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں کہ یہ صدام نہیں، صدام کا کوئی ڈبل ہے اور یہ کہ صدام کی بیوی ساجدہ خیراللہ نے اسے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

عاصم مرزا، گجرات، پاکستان: صدام حسین ابھی تک امریکی تحویل میں ہے تو منصفانہ سماعت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے اور بقول صدام یہ عدالت نہیں ڈرامہ ہے۔

اکبر خان نیازی، راوالپنڈی، پاکستان: اصل میں اب ساری دنیا پر امریکہ کا راج ہوچکا ہے۔ وہ جہاں جس وقت جو چاہے، کرلے اور مسلمان تو ویسے ہی اس کے برے دشمن ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان ممالک اور ان کے حکمران امریکہ کے گرگے ہیں اور امریکہ کی مرضی پر چل رہے ہیں۔ امریکہ اب اتہا پر پہنچ چکا ہے اور جب تک اس کا قلع قمع نہیں ہوتا، یہ سب جاری رہے گا۔

سید رضا احمد، دبئی: یہ بات صاف ہے کہ موجودہ حالات میں صدام پر منصفانہ مقدمہ نہیں چل سکتا۔

محبوب علی، پاکستان: یہ انتقامی کارروائی ہے۔

کلیم فاروقی، پاکستان: امریکہ نے آج تک کوئی کام منصفانہ کیا ہے جو اب کرےگا۔ میری دعا ہے کہ کوئی امریکہ پر وہ عذاب ڈالے جو اس نے دوسروں پر کئے ہیں، پھر پتہ چلے گا کیا ہوتا ہے انصاف۔

جیتے جی پھانسی
 ان کو پھانسی تو جیتے جی ہی ہو چکی ہے۔ ان پر مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔
پرویز مخدومی، گجرانوالہ

پرویز مخدومی، گجرانوالہ، پاکستان: صدام کو آج کٹہرے میں دیکھ کر بے حد عبرت ہوئی۔ صدام کے لیے ہمارے دل میں کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ ان کو پھانسی تو جیتے جی ہی ہو چکی ہے۔ ان پر مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے ظلم و ستم سے کون واقف نہیں ہے۔

جانی سلیم، جاپان: سماعت منصفانہ نہیں ہوگی۔ جو امریکہ چاہے گا وہی فیصلہ ہو گا۔ ان سب حالات کا ذمہ دار بش ہے۔

راحت ملک، راوالپنڈی، پاکستان: ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صدام کو انصاف نہیں ملے گا۔ عراق پر اس کا اثر یہ پڑ سکتا ہے کہ صدام کے مخالفوں کی ہمدردیاں بش حاصل کر لینگے۔ شاید یہ چال بش کو جیتنے میں مدد کرے۔

محمد سید، کالاکوٹ، پاکستان: صدام نے بالکل صحیح کہا ہے کہ اصل مجرم صدر بش ہیں۔ صدام سے پہلے بش پر مقدمہ چلنا چاہئے۔

شیر اکبر، کویت: امریکہ کے عراق پر لگائے گئے وہ الزامات جن کی بنیاد پر جنگ لڑی گئی، سب جھوٹ ثابت ہو چکے ہیں تو اب انصاف کی امید کہاں؟

مقصود، لاہور، پاکستان: صدام کو انصاف نہیں ملے گا۔

بخاری، برطانیہ: یہ سب ایک ڈراما ہے۔

آصف محمود، پاکستان: صدام بےقصور ہے اور اصل مجرم بش ہے۔ مقدمہ بش پر چلنا چاہئے۔

نعیم کیانی، کینیڈا: جیسے 1857 کے غدر کے بعد مغل بادشاہ کو برطانوی افواج نے باغی قرار دیا تھا، ویسا ہی حال صدام کا ہے۔ تاریخ دوہرائی جا رہی ہے۔

شیر اکبر، کویت: صدام بےقصور ہے۔ آج تک عراق میں جو کچھ ہوا ہے وہ سب امریکہ کی خارجی پالیسی کا نتیجہ تھا۔ امریکہ دنیا کو بےوقوف بنانا چاہتا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو امریکہ کر رہا ہے اور الزام صدام پر لگا رہا ہے۔

عراقی فیصلہ کریں
 انصاف اسی میں ہے کہ عراق کے لوگ ہی صدام حسین کی قسمت کا فیصلہ کریں۔
کیون سمتھ، برطانیہ
کیون سمتھ، برطانیہ: انصاف اسی میں ہے کہ عراق کے لوگ ہی صدام حسین کی قسمت کا فیصلہ کریں۔ آخر جتنے ظلم کرنے کا الزام صدام پر ہے وہ سب اس نے عراقیوں کے خلاف ہی کئے تھے۔ عراق میں جمہوریت قائم کرنے کا یہی ایک راستہ ہے۔

انیا، لندن، برطانیہ: صدام کی قسمت کا فیصلہ عراقیوں کے ہی ہاتھ ہونا چاہئے۔ عراقیوں کو صدام کا فیصلہ اپنی قانون کے تحت کرنا چاہئے۔ اس وقت انہیں مدد کی ضرورت ہے مداخلت کی نہیں۔

شان، امریکہ: یہ شاید سب کا پسندیدہ حل نہ ہو مگر صدام کو بین الاقوامی عدالت کے حوالے کرنے سے کافی بہتر ہے۔

سوزان، سڈنی، آسٹریلیا: یہ مقدمہ عراق میں اقتدار کی منتقلی کی سیاسی اور علامتی مثال ہے۔

جیمز گرینبرگ، امریکہ: اب عراق کے لوگوں کو انصاف ملے گا۔

محمد اجمل خان، چینیوٹ، پاکستان: صدام کو رہا کردینا چاہئے۔

امداد علی، لاہور، پاکستان: ایک غیر منصفانہ حکومت کیسے انصاف کرسکتی ہے۔ عدالت کی سماعت کو اپنی مرضی کے مطابق چلایا جائے گا۔

عبدالکریم، لاہور، پاکستان: جیسے عراق پر حملے کا فیصلہ منصفانہ نہیں تھا ویسے ہی صدام کا مقدمہ بھی غیر منصفانہ ہوگا۔ صدام عراقیوں کے ہیرو بن جائیں گے کیونکہ عراق کے لوگ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔

ایاز خان، راوالپنڈی، پاکستان: امریکی سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے صدام سے زیادہ عراقی مارے ہیں۔ امریکہ کے زیرِ اثر جج کیسے انصاف کر سکتے ہیں۔

محمد زاہد شیخ، سرگودھا، پاکستان: عراق کی نئی حکومت بھی امریکہ کی کٹھ پتلی ہے۔ اس نے وہی کرنا ہے جو سرکار حکم کرے گی۔ مقدمہ بش پر چلنا چاہئے کیونکہ عراق کے جو حالات آج ہیں وہ صدام کے دور میں نہیں تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد