 | | | بغداد میں غیر ملکی صحافیوں کے مسکن فلسطین کو ہوٹل کو اکتوبر 2004 میں کا بم حملے کا نشانہ بنایا گیا |
صحافیوں کی ایک تنظیم کے مطابق عراق میں گزشتہ تین سالوں میں 86 صحافی ہلاک ہوئے ہیں۔ صحافیوں کے حالات کار اور ان کو درپیش مشکلات پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے عراق میں جاری تشدد کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے صحافیوں کے لیئے سب سے زیادہ ہلاکت خیز قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق عراق میں امریکی حملے کے بعد سے اتنے صحافی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے کارکن ہلاک ہوچکے ہیں جتنے 20 سالوں پر محیط ویتنام کی جنگ میں بھی نہیں ہوئے تھے۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 60 صحافی اور 26 دیگر کارکن میڈیا ملازمین مثلاً مقامی ڈرائیورز اور مترجم شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار چار کے آغاز کے بعد سے کوئی ایسا مہینہ نہیں گزرا جس میں کم از کم ایک صحافی ہلاک نہ ہوا ہو۔ ہلاک ہونے والوں صحافیوں میں سے تین چوتھائی عراقی تھے۔ تنظیم نے صحافیوں کی ہلاکت سے متعلق ایک اور افسوس ناک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے کی جنگوں کے برعکس عراق میں ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے آدھے سے زیادہ کو جان بوجھ کر صحافی ہونے کی بنا پر نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والے صحافیوں کے علاوہ 38 صحافیوں یا ان کے ملازمین کو یرغمال بنایا گیا۔ ’اِن میں سے تیس کو بعد میں رہا کر دیا گیا، پانچ کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ تین ابھی تک اغواکاروں کے چنگل میں ہیں۔ |