کونڈولیزا رائس کو مظاہرین کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمال مغربی انگلینڈ کے اپنے دورے کے دوسرے روز بھی امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس کو جنگ مخالف مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سنیچر کو جب سیکرٹری رائس اپنے برطانوی ہم منصب جیک سٹرا کے ساتھ بلیک برن میں مسلم تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے پہنچیں تو انہیں جنگ مخالف مظاہرین کا سامنا رہا۔ البتہ ان کے استقبال کے لیئے ان کے حامی بھی اچھی تعداد میں موجود تھے۔ جنگ مخالف مظاہرین پر اپنے ردعمل میں سیکرٹری رائس نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’میں انہیں جمہوریت کا ایک حصہ سمجھتی ہوں، یہ مجھے برے یا ناپسند نہیں لگتے۔‘ اس موقع پر جیک سٹرا نے رائس کی حمایت میں موجود لوگوں کو ’زبردست‘ کہہ کر سراہا اور مظاہرین کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کوئی ’بڑی تعداد نہیں‘ قرار دیا۔ سٹرا نے کہا کہ مظاہرین نے ’بسوں میں بھر بھر کر آنے کی بات کی تھی لیکن وہ اچھی طرح کام نہ کرسکے۔‘ سیکرٹری رائس نے بلیک برن کے ٹاؤن ہال میں مسلم رہنماؤں سے ملاقات کی۔ انہوں نے مسلم رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’فراخدلانہ اور دلچسپ‘ قرار دیا اور مقامی لوگوں کی جانب سے استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ جیک سٹرا اور کونڈلیزا رائس جب ٹاؤن ہال سے جارہے تھے تو انہیں لگ بھگ دو سو مظاہرین کے طعنوں کا نشانہ بننا پڑا۔ دونوں وزرائے خارجہ بغیر رکے چلے گئے۔ مقامی رہائشی پینتیس سالہ جودِتھ ہوجکِنسن نے، جو حمایتیوں کی قطار میں موجود تھیں، بتایا کہ بلیک برن کے لیئے سیکرٹری رائس کا آنا باعث فخر ہے۔ لیکن مخالفین نے رائس کو ’جنگی مجرم‘ قرار دیا۔ تئیس سالہ عمار حسین نے، جو مانچسٹر میں سکیورٹی گارڈ ہیں، کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ غلط ہے کہ ہم نے کونڈولیزا رائس کو یہاں آنے کی اجازت دی۔‘ عمار حسین نے کہا: ’ہم عراق پر حملے کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ ایک مجرمانہ کارروائی تھی۔‘ کچھ صحافیوں کے ساتھ ایک نجی لنچ کے بعد سیکرٹری رائس لیورپول پہنچنے والی ہیں جہاں وہ میری ٹائم میوزیم دیکھنے والی ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کے انتخابی حلقے میں مسلم ووٹروں کی تعداد کافی ہے اور جمعہ کو بھی انہیں جنگ مخالف مظاہرین کا سامنا رہا۔ جمعہ کو برطانوی تھِنک ٹینک چیٹم ہاؤس کے زیرتحت ایک تقریر کے دوران سیکرٹری رائس نے تسلیم کیا کہ امریکہ سے عراق میں ہزاروں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں لیکن انہوں نے عراق پر امریکی حملے کو صحیح قرار دیا۔
تقریر کے بعد حاضرین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’میں جانتی ہوں کہ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں، یقیناً ہزاروں کے حساب سے۔ ‘ انہوں نے مزید کہا: ’لیکن اگر آپ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ آیا آپ نے صحیح حکمت عملی اپنائی یا نہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ صدام حسین کو ہٹانے کا فیصلہ ایک درست فیصلہ تھا کیونکہ وہ عالمی برادری کے لیئے ایک خطرہ بنتا جارہا تھا۔‘ تقریر کے دوران کونڈولیزا رائس نے امریکی خارجہ پالیسی کے جن پہلوؤں پر روشنی ڈالی، اس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں:- اول یہ کہ کسی کو بھی عدل و انصاف اور آئین کی بالادستی سے امریکی کی وابستگی شک نہیں ہونا چاہیے۔ دوم یہ کہ امریکہ کو دنیا بھر کا بڑا جیلر بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ گرفتار شدہ ’دہشت گردوں‘ پر مقدمے چلائے جائیں۔ سوم یہ کہ آزادی کا فروغ آج امن کے لیئے سب سے بڑی امید ہے۔ چہارم یہ کہ امریکہ ایران کے جوہری بحران کے سلسلے میں طاقت کے استعمال کا ارادہ نہیں رکھتا۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صدر بش کسی آپشن کو بھی اپنے ایجنڈے سے باہر نہیں کرتے۔ امریکی وزیر خارجہ برطانیہ کے شمالی مغربی حصے کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ اس دورے کے دوران وہ بلیک برن سے دارالعوام میں رکن اور برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کی مہمان ہیں۔ | اسی بارے میں رائس مسلم رہنماؤں سے ملیں گی01 April, 2006 | آس پاس عراق میں غلطیاں ہوئیں: رائس31 March, 2006 | آس پاس اسرائیل کی امریکی حمایت کا امکان 30 March, 2006 | آس پاس ’ایران دہشت گردوں کا گڑھ ہے‘09 March, 2006 | آس پاس ’ایران و شام نے جذبات بھڑکائے ہیں‘08 February, 2006 | آس پاس عراق سےنکلنا غلط ہے: رائس 01 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||