عراق میں ہزاروں کی نقل مکانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی حکومت نے کہا ہے کہ حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ تیس ہزار عراقی اپنے گھروں سے چلے گئے ہیں۔ عراق کی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ تیس ہزار کو زیادہ لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے اور دس ہزار لوگ عارضی گھروں میں رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ سے ملحقہ تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن برائےمائیگریش نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تینتیس ہزار عراقی ایک شعیہ مزار پر حملے کے بعد شروع ہونے والے تشدد کے بعد اپنا گھر باہر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سب سے زیادہ نقل مکانی عراقی دارالحکومت بغداد سے ہوئی ہے جہاں شیعہ اور سنی اکھٹے رہتے ہیں۔ عراقی ریڈ کراس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ دس ہزار ایسے لوگوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے جو تشدد کی وجہ اپنے گھر بار چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ ریڈ کراس کے مطابق اگر تشدد کی لہر جاری رہی تو نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ | اسی بارے میں شیعہ سنیوں نے ساتھ نمازیں ادا کیں25 February, 2006 | آس پاس عراق میں خانہ جنگی نہیں: بش21 March, 2006 | آس پاس کرفیو: بغداد میں سڑکیں سنسان24 February, 2006 | آس پاس عراقی شہریوں کی ہلاکت، تفتیش21 March, 2006 | آس پاس عراق: اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک21 March, 2006 | آس پاس ’فوری عراقی حکومت ضروری‘22 March, 2006 | آس پاس بغداد سے برطانوی یرغمالی رہا23 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||