BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 March, 2006, 01:45 GMT 06:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی شہریوں کی ہلاکت، تفتیش
عراقی زخمی
امریکی فوجیوں پر بڑی تعداد میں عراقی عام شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے
عراق میں تعینات امریکی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے ان الزامات سے متعلق فوجداری تفتیش شروع کردی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ نومبر میں مرین فوجیوں نے حدیثہ کے قصبے میں پندرہ عراق عام شہریوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس وقت جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ عراق شہری سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت یہ بھی کہا گیا تھا کہ بم پھٹنے سے ایک مرین فوجی بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

تاہم اس سلسلے میں کی جانے والی ایک ابتدائی فوجی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک بم حملے کے بعد انہیں ان کے گھروں کے اندر گھس کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں سات عورتیں اور تین بچے بھی شامل تھے۔

امریکی نیوی سے تعلق رکھنے والے تفتیش کار اب اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا 12 مرین فوجی مجرمانہ کارروائی کا الزام ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اس معاملے میں تحقیقات امریکی میگزین ٹائم میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد شروع کی گئی تھیں۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مختلف عراقی حلقوں کی طرف سے تواتر سے یہ الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ امریکی فوجیوں نے بڑی تعداد میں عراقی عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

دوسری طرف عراق پر امریکہ کی سربراہی میں ہونے والے حملے کو تین سال مکمل ہونے پر صدر بش نے حملے کا دفاع کیا ہے۔

ریاست اوہیو میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ عراق کے بعض حصوں میں ابھی تک تشدد کے وحشت انگیز واقعات ہو رہے ہیں تاہم زیادہ تر علاقگں میں مزاحمت کاروں کو شکست کا سامنا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ عراق میں استحکام قائم ہونے سے پہلے فوجیں واپس نہیں بلائے گا۔

’امریکہ عراق کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ہم عراق سے اُسی وقت فوجیں واپس بلائیں گے جب اسے ہماری کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت سمجھا جائے گا۔‘

کم ہاولز’حالات خراب ہیں‘
عراق کی صورتحال پر برطانوی وزیر کا اعتراف
عراقکیا صحیح کیا غلط
عراقی معاملات اور امریکیوں کا اختلاف رائے
امریکہ اپنا رویہ بدلے: لخدر براہیمیعراق اورلخدر براہیمی
امریکہ اپنا رویہ بدلے: لخدر براہیمی
عراق: گردشِ ایام
عراق میں شیعہ، سنی اور اتحادی تصادم کیوں؟
عراقعراق: مایوس کہانی
عراق ناقابل یقین الجھاؤ کا شکار ہے: امریکی اہلکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد