BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 April, 2006, 09:01 GMT 14:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رائس، سٹرا عراق کے دورے پر
رائس انگلینڈ کے دورے سے جیک سٹرا کے ہمراہ سیدھے بغداد پہنچیں
امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس اور ان کے برطانوی ہم منصب جیک سٹرا ایک غیراعلانیہ دورے پر عراقی دارالحکومت بغداد پہنچ گئے ہیں۔

رائس اور سٹرا کا عراق کا یہ دورہ کافی اہم ہے کیوں کہ بغداد کی سیاسی سرگرمیاں حکومتی تشکیل کے مراحل میں ہیں۔ دونوں رہنما عراقی صدر جلال طالبانی اور وزیراعظم ابراہیم جعفری سے ملاقات کریں گے۔

کونڈولیزا رائس برطانوی وزیرخارجہ کی دعوت پرچند دو روز سے شمال مغربی انگلینڈ کے دورے پر تھیں جہاں سے وہ اور جیک سٹرا سیدھے بغداد گئے۔

عراق میں جنوری کے انتخابات میں وزیراعظم جعفری کا شیعہ اتحاد اکثریت سے کامیاب رہا تھا لیکن تشدد پر کنٹرول نہ حاصل کرنے کے بعد جعفری پر دباؤ ہے کہ وہ ملک کی قیادت کسی اور کو سونپ دیں۔

ابراہیم جعفری سنی برادری اور کردوں کے سیاسی نمائندوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اب خود ان کے سیاسی اتحاد کے بعض سیاست دانوں کی جانب سے ان کی قیادت کو چیلنج کا سامنا ہے۔

گزشتہ ہفتے شیعہ اتحاد کے سینیئر سیاسی رہنماؤں نے بتایا کہ بغداد میں امریکی سفیر زلمےخلیل زاد نے ان سے کہا تھا کہ صدر بش وزیراعظم جعفری کی قیادت کی حمایت نہیں کرتے۔ جواب میں ابراہیم جعفری نے کہا کہ صدر بش کے بیان سے عراق میں جمہوریت کی ان کی حمایت کمزور ہوگی۔

وزیر خارجہ رائس نے انگلینڈ کے دورے پر اعتراف کیا تھا کہ امریکہ نے عراق میں ہزاروں ٹیکٹیکل غلطیاں کی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صدام حسین کو حکومت سے دستبردار کرنے کا فیصلہ درست تھا۔

رائس اور ان کے برطانوی ہم منصب بغداد میں ایسے وقت میں ہیں جب بعض حلقے ایک قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ عراق کی تمام برادریوں کی حکومت میں نمائندگی ہوسکے اور دہشت گردی پر قابو پایا جاسکے۔

عراقی انتخابات میں اکثریت سے کامیاب ہونے والے شیعہ اتحاد نے ابراہیم جعفری کو پھر سے وزیراعظم کے عہدے کے لیے اتحاد کے رہنما کی حیثیت سے نامزد کیا تھا لیکن کرد اور سنی جماعتوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی جگہ کسی اور کو وزیراعظم نہیں بنایا گیا تو وہ حکومت میں شریک نہیں ہوں گے۔

امریکہ نے حکومت سازی کے سست عمل پر بےزاری کا اظہار کیا ہے۔ امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے سنیچر کو کہا: ’عراق میں خون بہہ رہا ہے جبکہ یہ لوگ بڑی سست رفتاری سے (حکومت سازی میں) آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

کم ہاولز’حالات خراب ہیں‘
عراق کی صورتحال پر برطانوی وزیر کا اعتراف
عراقعراق: مایوس کہانی
عراق ناقابل یقین الجھاؤ کا شکار ہے: امریکی اہلکار
صحافیرپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز
عراق میں 3 سال میں 86 صحافی ہلاک ہوئے
کونڈولیزا رائس اور صدر بشفولادی ’وزیرِ خارجہ‘
رائس جارحانہ خیالات کے باوجود بہت مقبول ہیں
امریکی وزیر خارجہ، کونڈیلیزا رائسناٹو متحد ہے
امریکہ اور یورپی اتحاد میں کوئی اختلاف نہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد