BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 April, 2006, 13:58 GMT 18:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دستاویزات جعلی ہیں: صدام حسین
صدام حسین
صدام حسین کو دجیل میں ڈیڑھ سو شیعہ مسلمانوں کے قتل کے مقدمے کا سامنا ہے
عراقی ٹریبیونل میں صدام حسین کے خلاف کارروائی میں سابق عراقی صدر نے الزام عائد کیا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیئے گئے دستاویزات جعلی ہیں۔ انہوں نے ملک کی وزارت داخلہ پر ہزاروں افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کے الزامات بھی عائد کیئے ہیں۔

جج نے کارروائی کے دوران ان سے کہا کہ وہ سیاسی بیانات دینے سے گریز کریں تو ان کا جواب تھا ’آپ وزیر داخلہ سے خوفزدہ ہیں، وہ تو میرے کتے کو بھی نہیں ڈرا سکتا‘۔

نئی حکومت کی وزارت داخلہ پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

سابق صدر صدام حسین اور ان کے سات ساتھیوں پر 1980 میں 148 افراد ہلاک کرنے کے الزام میں مقدمہ جاری ہے۔

یہ پیشی عدالت کے اس اعلان کے بعد ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صدام حسین کو نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دیگر الزامات کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔

صدام حسین اور ان کے چھ دیگر ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے شمالی عراق میں ایک ایسی فوجی مہم چلائی تھی جس کے نتیجے میں ایک لاکھ اسی ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ اس دوران لوگوں کو ہلاک کیا گیا، انہیں گرفتار کیا اور جائیدادیں ضبط کر کے انہیں ملک سے نکال دیا گیا۔

چھ ماہ سے چلنے والی عدالتی کارروائی میں پہلی مرتبہ صدام حسین سے جرح کی گئی۔ صدام حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئی بین الاقوامی ادارہ عدالت میں پیش کیئے جانے والے دستاویزات پر موجود دستخطوں کو شناخت کرے۔ ان دستاویزات پر صدام کے دستخط موجود ہیں اور ان سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے دجیل میں کی گئیں ہلاکتوں کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔

اس سے قبل صدام حسین ایک ایسی کارروائی کی منظوری دینے کا اقرار کرچکے ہیں جس میں کئی افراد کو ہلاک کیا گیا تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قانون کے دائرے میں آتی ہے۔

صدام کے دیگر ساتھیوں کا کہنا ہے کہ دستاویزات پر موجود دستخط جعلی ہیں۔

کارروائی کے دوران صدام نے یہ بھی کہا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیئے گئے گواہان کو رشوت دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ کہہ کر جج کو چیلنج بھی کیا کہ ’ایک ایسے صدر کے خلاف فیصلہ دینے کی جرات کون کرسکتا ہے جس نے اپنے ملک کا دفاع کیا ہو‘۔

بغداد سے بی بی سی کے اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے گروپ سابق عراقی حکومت پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ ’انفعال‘ نامی فوجی مہم کے دوران صرف حلبجہ میں پانچ ہزار افراد کو زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔ تاہم ٹریبیونل یہ مقدمہ الگ چلایا جائے گا۔

ملزمان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد