BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 April, 2006, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الزرقاوی کو ہٹا دیا گیا: رپورٹ
اردن سے تعلق رکھنے والے شدت پسند تنظیم القاعدہ کے رہنما ابو مصعب الزرقاوی کو عراق میں مزاحت کاروں کے اتحاد کی سربراہی سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔

عراق میں مزاحمت کاروں کے ایک اعلی رکن حتیفہ اعظم نے جن کا شمار اسامہ بن لادن کے والد کے محسنوں میں شمار ہوتا ہے دعویٰ کیا ہے کہ ابو مصعب الزرقاوی کو مزاحت کاروں کے اتحاد کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اعظم کا دعویٰ ہے کہ بہت سے مزاحمت کار ابومصعب الزقاوی کی حکمت عملی پر اعتراض تھا اور وہ اس بات پر بھی ناخوش تھے کہ ابو مصعب الزرقاوی عراق میں مزاحمت کرنے والی تمام تنظیموں کی جانب سے کیسے بیان دے سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ کسی عراقی کو مزاحمت کاروں کا سربراہ بنانے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ بیرونی قبضے کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔

اعظم کا کہنا ہے کہ اب مزاحمت کاروں کی سیاسی نمائندگی کی ذمہ داری عبداللہ بغدادی کے سپرد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الزرقاوی دوسرے ملکوں میں بھی کارروائیاں کر رہے تھے اور سرقلم کرنے کے مناظر کو وڈیو ٹیپ پر فلم بند کرکے شائع کرنے جیسے طریقے استعمال کر رہے تھے جو کہ مزاحمت کاروں کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے تھے۔

اعظم کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ اعظم کو کس طرح یہ اطلاعات موصول ہوئیں۔

حتیفہ اعظم کے مزاحمت کاروں سے قریبی روابط ہیں اور وہ عبداللہ اعظم کے بیٹے ہیں جو کہ فلسطینیوں کے ایک پرکشش رہنما ہیں اور مسلمانوں کی جہادی تنظیموں میں انہیں کافی اثر و رسوخ حاصل ہے۔

عبداللہ اعظم نے اسامہ بن لادن سمیت لاتعداد عرب نوجوانوں کو افغانستان میں روس کے قبضے کے خلاف جہاد میں شامل ہونے پر آمادہ کیا تھا۔

مشرق وسطی میں بی بی سی کے مبصر راجر ہارڈی کے مطابق اسی لیے حتیفہ اعظم جہادی تنظیموں کے بارے میں بڑے وثوق سے بات کرتے ہیں۔

الزرقاوی عراق میں القاعدہ کے رہنما کی حیثیت سے بہت بدنام ہو گئے ہیں اور ان کو بدترین بم دھماکوں، قتل کی وارداتوں اور غیر ملکیوں کے سر قلم کرنے کی وارداتوں سے منسلک کیا جا رہا تھا۔

اس سال جنوری میں القاعدہ نے ایک بیان ایک ویب سائٹ پر شائع کیا تھا جس کے مطابق القاعدہ کے ساتھ مزاحمت کاروں کے پانچ اور گروہ شامل ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد