عراقی قیادت جلدی کرے: رائس، سٹرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں طاقت کا خلا عراقیوں کو زِک پہنچا رہا ہے اور ملک میں امن و امان بحال کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ جیک سٹرا اپنی امریکی ہم منصب کونڈو لیزا رائس کے ہمراہ عراق کے دورے پر ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں راہنما عراق میں ہونے والے حالیہ تشدد کے پس منظر میں ملک میں ایک ایسی حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں جس میں تمام سیاسی دھڑوں اور مذہبی فرقوں کی نمائندگی ہو۔ انہوں نے عراقی صدر جلال طالبانی اور وزیراعظم ابراہیم جعفری سے بات چیت کی۔ دونوں مغربی راہنماؤں کے خیال میں اصل مسئلہ وزارت عظمی کے امیدوار پر موجود اختلاف ہے۔ اگرچہ دسمبر کے انتخابات کے بعد سے ابراہیم جعفری اس عہدے پر فائز ہیں مگر ان کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کردوں اور سنیوں کی جانب سے تو ان کی مخالفت تھی ہی اب خود ان کے اپنے شیعہ حامیوں کی جانب سے بھی مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ بھی اب ان کے بارے میں شاکی نظر آتا ہے۔ وزیرِ خارجہ جیک سٹرا کہتے ہیں: ’وزیرخارجہ رائس اور میں نے جس بات پر زور دیا ہے اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ عراق ایک خودمختار ملک ہے۔ اور یہ فیصلہ انہیں کرنا ہے کہ وزیراعظم سمیت ان کے قائدین کون ہوں گے۔ مگر عالمی برادری، بالخصوص امریکی اور برطانیہ کو اس بات میں گہری دلچسپی ہے کہ عراقی وزارت عظمی کے منصب پر کب کسی کو فائز کرتے ہیں۔ کیونکہ طاقت کا خلا عراقیوں کوں نقصان پہنچا رہا ہے‘۔ امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ ان کا ملک اس معاملے میں عراقیوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرے گا۔ تاہم جلدی اس بات کی ہے کہ کوئی ایسی سیاسی شخصیت سامنے آئے جو قومی اتحاد کی حکومت بنا سکے۔ اور مسٹر جعفری اب تک ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس عجلت کا اظہار برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو وزیراعظم بننا ہے اور جلد ہی بننا ہے۔
’ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ دیکھو امریکہ اور برطانیہ نے اس ملک کو آزادی دلوائی ہے۔ ہم جتنے بھی عراقی راہنماؤں بشمول سنیوں سے ملے ہیں وہ، جو کچھ ہم نے عراق کے لیے کیا، اس کے لیے ہمارے شکرگزار ہیں۔ اور جیسا کہ وہ کہتے ہیں آزادی کی راہ میں امریکی، برطانوی اور اتحادی افواج کا لہو بہا ہے، اس لیے یہ بات بہت ہے کہ عراقی اب پیش رفت کریں اور میرے خیال میں ہمیں یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ امریکی، برطانوی اور اتحادی فوج کا خون اور یہاں خرچ ہونے والی رقم اس بات کی متقاضی ہے کہ عراقی قیادت حکومت سازی میں تیزی سے پیش رفت کرے‘۔ صدر جلال طالبانی کے ترجمان ہیوا عثمان کہتے ہیں: ’یہ اپیل صرف جیک سٹرا نے نہیں کی بلکہ عراق کے اندر بھی یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں ہے اور عراقی گلی کوچوں میں اس دباؤ کو محسوس کرتے ہیں کہ حکومت کا جلد قیام کتنا ضروری ہے۔ میرے خیال میں مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس عمل کی رفتار اتنی تیز نہیں۔ کئی باتیں ایسی ہیں جن پر پہلی بار آج ہی بات ہوئی۔ اب ان مسائل کو مذاکرات کی میز پر رکھا جائے گا اور ان بحث ہوگی۔ لیکن تمام قائدین صبح شام اس کوشش میں ہیں کہ یہ مسائل جلد سے جلد حل ہوجائیں‘۔ بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ برطانوی اور امریکی وزرائے خارجہ نے عراقی قیادت کو بالکل واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت سازی کے معاملے میں امریکہ اور برطانیہ کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے دورے کے دوران بھی عراق میں تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مزاحمت کاروں نے بغداد کے شمال مشرق میں بعقوبہ کے نزدیک ایک گاؤں قبا میں ایک شیعہ مسجد کو اڑا دیا۔ بغداد شہر سے چار لاشیں ملیں اور امریکی فوج کے مطابق بلد شہر کے قریب امریکی اور عراقی فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں چار مزاحمت کار ہلاک ہو گئے۔ |
اسی بارے میں عراق میں غلطیاں ہوئیں: رائس31 March, 2006 | آس پاس عراقی ملیشیا گروہ اورعدم استحکام 02 April, 2006 | آس پاس کونڈولیزا رائس کو مظاہرین کا سامنا01 April, 2006 | آس پاس رائس کی مسلم رہنماؤں سے ملاقات01 April, 2006 | آس پاس ’ابراہیم جعفری دستبردار ہوجائیں‘01 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||