عراقی ملیشیا گروہ اورعدم استحکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام عراق میں سیاست دانوں پر مسلح گروہوں کو قابو کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ عراق میں پایا جانے والا عدم استحکام اور تشدد کی بڑی وجہ انہی گروہوں کو سمجھا جا رہا ہے۔ ایک اعلٰی امریکی اہلکار نے کہا کہ عراق حکومت کو مسلح گروہوں کے متعلق واضح پالیسی اپنانا ہو گی جنہیں امریکی سفارت خانہ اب مسلح گینگ کہتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ امریکی فوجی اور سفارتی پالیسی میں ان مسائل کے بارے میں ابہام دیکھتے ہیں جو کہ سخت اقدامات لینے میں بظاہر رکاوٹ ہیں۔ شیعہ ملیشیاء کے ارکان کو فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ عراق میں اور خاص طور پر بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں گزشتہ چند ہفتوں میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ عراق میں یہ فرقہ وارانہ قتل عام جاری ہے اور عراقی حکام اس بارے میں کوئی اقدام اٹھانے کے نہ اہل اور نہ ہی تیار نظر آتے ہیں۔ بہت سے عراقیوں کا خیال ہے کہ یہ گروہ حکومت سے مذاکرات کرنے والی سیاسی جماعت اور سیاسی رہنماوں سے منسلک ہیں۔ یہ عناصر پولیس میں شامل ہو گئے ہیں۔ بغداد میں لاشوں کا ملنا روزہ مرہ کا معمول بن گیا ہے۔ ہفتے کو امریکی اور عراق پولیس کو پندرہ لاشیں ملیں جن کے بارے میں خیال کیا رہا ہے کہ یہ لوگ فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنے۔ ان لوگ کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے اور ان کو گولی ماری گئی تھی۔ | اسی بارے میں رائس مسلم رہنماؤں سے ملیں گی01 April, 2006 | آس پاس کونڈولیزا رائس کو مظاہرین کا سامنا01 April, 2006 | آس پاس رائس، سٹرا عراق کے دورے پر02 April, 2006 | آس پاس ایران پر میٹنگ نہیں: برطانیہ02 April, 2006 | آس پاس عراقی لڑکے کی تصاویر، نمائش لندن میں02 April, 2006 | آس پاس جل کیرول کے انٹرویو کی ویڈیو02 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||