BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 May, 2006, 06:36 GMT 11:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تفصیلات سامنے لائیں گے: امریکہ
عراق
نورالمالکی نے کہا کہ ان غلطیوں کی بھی کوئی حد ہوتی ہے
امریکی حکومت نے عراقی قصبے حدیثہ میں مبینہ طور پر امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت میں تحقیقات کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام تفصیلات کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق پچھلے سال نومبر میں امریکی میرین نے مبینہ طور پر حدیثہ قصبے میں چوبیس عام شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر جارج بش کو میرین کی طرف سے عام شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں پر سخت تشویش ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ فوج پہلے اس معاملے کی تحقیات کرے۔

اس سے پہلے عراقی وزیر اعظم نور المالکی نے کہا تھا کہ گزشتہ سال حدیثہ کے قصبے میں مبینہ طور پر امریکی فوج کی طرف سے عام شہریوں کے قتل عام کے واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔

نور المالکی نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ غلطی سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں معذرتیں قبول کرنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگن کی اس واقعہ کی تحقیقات اپنے آخری مراحل میں ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس واقعہ سے امریکی ساکھ کو ابوغریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی کی خبروں سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حدیثہ کے واقعہ کے بارے میں پہلے امریکی فوج نے کہا تھا کہ ایک بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد پندرہ شہری اور آٹھ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی فوج بھی اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے

نورالمالکی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عام شہری ایک غلط فوجی کارروائی کا نشانہ بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ہے تو اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ عام شہریوں کو ہلاک کر دیا جائے۔

انہوں نے رائٹرز کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ اس طرح کی بڑھتی ہوئی غلطیوں پر ان کی حکومت کو سخت تشویش ہے اور وہ حدیثہ کے علاوہ ہر اس کارروائی کے بارے میں جواب طلب کرے گی جس میں عام شہری ہلاک ہوں گے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب نے اطلاع دی ہے کہ حدیثہ کے واقعہ کے بارے میں شائع ہونے والی خبریں عام امریکیوں کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہیں کہ ان الزامات میں ضرور کوئی سچائی ہے۔

امریکی تفتیش کار اس واقعہ کی دونوں ممکنہ زاویوں سے تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ اصل واقعہ کے بارے میں تحقیقات کرنے کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ اس واقعہ کو چھپانے کی کس طرح کوشیش کی گئی۔

امریکی فوج کے مطابق عام شہری بم دھماکے یا اس کے بعد شروع ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہوئے جبکہ عینی شاہدوں کے مطابق امریکی فوج نے دھماکے کے بعد اشتعال میں آ کر عام شہریوں کو ہلاک کر ڈالا۔

امریکی فوج نے ابتدا میں کہا تھا کہ یہ ہلاکتیں شدت پسندوں سے جھڑپ میں ہوئیں

امریکہ کے ایک مقتدر جریدے ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ امریکی مرینز نے بغیر کسی اشتعال کے عام شہریوںہلاک کر ڈالا تھا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔

اخبار تحقیقات میں شامل فوجی اور غیر فوجی ذرائع کے حوالے سے لکھتا ہے کہ کئی امریکی فوجیوں کو عام شہریوں کو ہلاک کرنے اور کچھ کو اس واقعہ کو چھپانے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

حدیثہ میں اس وقت تعینات ایک امریکی فوجی لانس کورپرل رول رئیان برائنز کے مطابق انہوں نے ان ہلاکتوں کی تصاویر اتاریں تھیں اور اس واقعہ کو چھپانے کی کوشش میں لاشوں کو گھسیٹ کر گھروں سے باہر نکالا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان میں چھوٹے بچوں سمیت مرد اور خواتین بھی شامل تھیں ’میں یہ کبھی اپنے ذہن سے نہیں نکال سکتا اور اب بھی ان لاشوں کی بو میرے دماغ میں بسی ہوئی ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد