جھڑپ:2 امریکی فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سرحدی شہر حدیثہ میں مزاحمت کاروں کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ حدیثہ میں کئی عمارتوں پر کی گئی امریکی بمباری میں نو مشتبہ مزاحمت کار ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مزاحمت کار ان عمارتوں کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مزاحمت کار ان عمارتوں کو امریکی اور عراقی پٹرول گاڑیوں پر فائرنگ کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ہلاک ہونے والے مشتبہ افراد میں سے پانچ شام کے شہری تھے۔ دیگر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ میں سیاسی امور پر تحقیق کرنے والے ایک مقتدر ادارے ’کونسل آن فارن ریلیشن‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں عراق میں جاری مزاحمت کا ذمہ دار بش انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کو قرار دیا ہے۔ اس ادارے نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ بش انتظامیہ نے عراق پر حملے کے بعد کی صورت حال کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے وہاں مزاحمت کو تقویت ملی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بش انتظامیہ نے حملے کے بعد صورت حال کو قابو میں رکھنے اور تعمیر نو کے کام کی نگرانی کرنے کے لیے فوج کی تعداد میں اضافہ نہ کرکے ایک فاش غلطی کی ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ حملے آور فوج کی تعداد حملے کے بعد صورت حال کوقابو میں رکھنے اور تعمیر نو کے کام کی نگرانی کے لیے کافی نہیں تھی جس کی وجہ سے امریکی فوج کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد کی صورت حال کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے تھی کہ جتنی کے حملے کو دی گئی تھی۔ ادارے نے تجویز دی ہے کہ جنگ سے متاثرہ ہونے والے ملکوں کی تعمیر کے لیے عالمی سطح پر کئی ارب ڈالر کا فنڈ قائم کیا جانا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||