الجزائر کے سفارت کاروں کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الجزائر نے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے کہ عراق میں اغوا کیے جانے والے اس کے دو سفارت کاروں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ الجزائر کے ان دو سفارت کاروں، علي بلعروسي اورعبد العزيز بلقاضي کو گزشتہ جمعرات کو بغداد سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ الجزائر کے صدر کے دفتر سے ان سفارت کاروں کے ہلاک کیے جانے کی تصدیق انٹر نیٹ پر عراق میں القاعدہ نامی ایک تنظیم کی طرف سے اس بارے میں اعلان کیے جانے کے بعد کی گئی۔ الجزائر کے سفارت کاروں کا قتل عراق میں مصر کے نامزد سفیر کے ہلاک کیے جانے کے بعد کیا گیا۔ مصر کے نامزد سفارت کار کو ہلاک کرنے کا دعوی بھی مزاحمت کاروں کی طرف سے کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق مزاحمت کار، سفارت کاروں کو نشانہ بنا رہے تاکہ عرب ملکوں کو عراق میں سفارت کاروں کو بھیجنے سے روکا جا سکے۔ الجزائر میں ان سفارت کاروں کے ہلاک کیے جانے کی خبر کو سرکاری ریڈیو پر معمول کی نشریات کو روک کر نشر کیا گیا۔ الجزائر کے صدر نے ان سفارت کاروں کے قتل کو بہیمانہ قرار دیا۔ سفارت کاروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزاحمت کاروں نے نہایت بزدلانہ طریقہ سے سفارت کاروں کو ہلاک کیا ہے۔ بدھ کو عراق میں القاعدہ نامی تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے الجزائر کے سفارت کاروں کو الجیریا کی طرف سے امریکہ کی حمایت کرنے کی وجہ سے قتل کر دیا ہے۔ اس تنظیم نے کہا کہ کیا انہوں نے خدا کے دشمنوں کی اور امریکہ کی حمایت کرنے کے بارے میں خبردار نہیں کیا تھا۔ اس سے قبل انٹر نیٹ پر کیے جانے والے اعلان میں ابو مصعب الزرقاوی کے گروہ نے اعلان کیا تھا کہ القاعدہ کی ایک عدالت میں ان دو سفارت کاروں پر مقدمہ چلائے جانے کے بعد انہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||