امریکہ فوج جلد واپس بلائے: جعفری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیراعظم ابراہیم جعفری نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی فوج کوجلدی عراق سے واپس بلائے۔ امریکی وزیرِدفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں عراقی وزیراعظم ابراہیم جعفری نے امریکہ کو کہا کہ وہ اپنی فوج کو جلد عراق سے واپس بلائے ۔ عراق کے وزیراعظم نے البتہ امریکی فو ج کے عراق چھوڑنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔ عراقی وزیراعظم نے امریکہ سے کہا کہ وہ عراقی فورسز کو تربیت دے کر کنٹرول ان کے حوالے کرے۔ عراق میں امریکہ فوج کے کمانڈر جنرل جارج کیسی نے کہا ہے کہ امریکی فوج کا عراق سے انخلاء موسم بہار سے شروع ہو سکتا ہے۔ جنرل کیسی کا بیان عراقی وزیراعظم کے مطالبے سے پہلے سامنے آیا تھا۔جنرل کیسی نے کہا تھا کہ عراق میں ہونے والے انتخابات اگر پروگرام کے مطابق ہو گئے اور سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو گئی تو کافی تعداد میں امریکی فوجی نکالے جا سکتے ہیں۔ عراق کے وزیراعظم نے کہا کہ امریکی فوجوں کا انخلاء عراقی حکومت کے علم میں ہونا چاہیے اور عراقی حکومت یہ نہیں چاہے گی کہ امریکی فوجوں کے انخلاء کی خبر سن کر ان کو’حیرانی‘ ہو۔ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نےعراقیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا آئین مقررہ وقت میں تیار کر لیں۔ یہ بات انہوں نے ایک غیر طے شدہ دورے پر عراق پہنچنے کے بعد کہی۔ وہ تاجکستان سے عراق پہنچے تھے۔ رمز فیلڈ نے آئین تیار کرنے والی کمیٹی سے کہا کہ وہ پندرہ اگست کی مقررہ تاریخ تک آئین کی تیاری کا کام پورا کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اس کام کو مکمل کرنے کا وقت آ پہنچا ہے‘۔ انہوں نےعراقی رہنماؤں سے کہا کہ وہ شام اور ایران پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہاں سے غیر ملکی دہشت گرد عراق میں داخل نہ ہوں۔ رمز فیلڈ آخری مرتبہ گزشتہ برس دسمبر میں ایک روزہ دورے پر عراق آئے تھے اور انہوں نےفلوجہ، موصل اور تکریت کا دورہ کیا تھا۔ اپنے موجودہ دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق سے درخواست کرے گا کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو جیل کے حفاظتی عملے کی تربیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’عراق کو جیلوں کے حفاظتی عملے کی ضرورت ہے تاکہ ہم جلد از جلد عراقی قیدیوں کو ان کی حکومت کے حوالے کر سکیں‘۔ اس وقت امریکی فوجی کم از کم پندرہ ہزار قیدیوں کی نگرانی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ نےگزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ عراقی مزاحمت کئی برس تک چل سکتی ہے اور عراقی عوام کو ہی اسے شکست دینی ہوگی۔ فاکس ٹی وی کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ’ اتحادی اور غیر ملکی افواج مزاحمت نہیں دبا سکتیں۔ ہم ایک ایسا ماحول تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں عراقی افواج اور عراقی عوام مزاحمت کی تحریک کو دبا سکیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||