’آئین سازی وقت پر ہی مکمل ہوگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام نے کہا ہے کہ ان تین سنی رہنماؤں کی ہلاکت سے ، جو عراق کی آئین سازی کی کمیٹی میں شامل تھے، آئین کی تشکیل کے کام میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔ اس آئین ساز کمیٹی کے چار مزید ارکان نے ان ہلاکتوں کے بعد سیکورٹی وجوہات کی بنا پر استعفٰی دے دیا ہے۔ لیکن آئین ساز کمیٹی کے سربراہ شیخ ہمام ہمودی نے کہا ہے کہ ملک کے نئے آئین کا مسودہ قومی اسمبلی کے سامنے مقررہ ڈیڈلائن سے پہلے اگست کے پہلے ہفتے میں پیش کردیا جائے گا۔ یہ مسودہ پیش کئے جانے کے بعد اراکین اسمبلی اس پر بحث کریں گے اور اس میں تبدیلیاں تجویز کئے جانے کے بعد اس پر پندرہ اگست کو ووٹ لیا جائے گا۔ عراق کی آئین ساز کمیٹی کو جولائی کے مہینے میں توسیع کردی گئی تھی اور سنی مسلمانوں کی اقلیت سے کئی رہنما اس میں شامل کئے گئے تھے۔ یہ اقدام بظاہر ان خدشات کے بعد کیا گیا تھا کہ ملک کی سنی اقلیت سیاست کی بجائے مزاحمت کی طرف جا رہی ہے۔ لیکن منگل کے روز کمیٹی میں شامل تین سنی رہنماؤں کو مزاحمت کاروں نے ہلاک کردیا تھا۔ مزاحمت کاروں نے پہلے سے یہ دھمکی سے رکھی تھی کہ اس کمیٹی میں شریک ہونے والے کسی بھی سنی رہنما کو ہلاک کردیاجائے گا۔ اس واقعے کے بعد کمیٹی کے چار مزید ارکان نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کمیٹی سے استعفٰی دے دیا ہے لیکن کمیٹی کے سربراہ شیخ ہمام ہمودی نے کہا ہے کہ وہ کمیٹی کے ارکان کے تحفظ کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ مسٹر ہمودی کا اصرار ہے کہ ان رکاوٹوں کے باوجود آئین سازی کا کام جاری ہے اور وقت پر مکمل ہوجائے گا۔ ’قومی اسمبلی میں بحث اور اس میں حتمی تبدیلیوں کے بعد آئین کے مسودے کی پچاس لاکھ کاپیاں گھروں میں تقسیم کی جائیں گی۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||