BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 July, 2005, 00:29 GMT 05:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی فوجیوں کے خلاف کارروائی
بہا موسی
بہا موسٰی زیر حراست ہلاک کردئیے تھے۔
تین برطانوی فوجیوں کے خلاف عراق میں ستمبر 2003 میں جنگی جرائم کے الزام میں کورٹ مارشل کی کارروائی کی جا رہی ہے۔

تینوں فوجیوں پر ، جن کا تعلق لنکاشائر رجمنٹ سے ہے، پر بنیالاقوامی کرمنل کورٹ ایکٹ 2001 کے تحت الزام ہے کہ انہوں نے کئی افراد سے غیر انسانی رویہ برتا۔

ان فوجیوں کے خلاف ہالینڈ کے شہر ہیگ میں جہاں عالمی عدالت قائم ہے، کی بجائے برطانیہ میں ہی کورٹ مارشل کی کارروائی کی جائے گی۔ ان فوجیوں کو چار دیگع فوجیوں کے ساتھ عمومی جرائم کے الزامات کا بھی سامنا ہے جبکہ چار مزید فوجیوں کے خلاف صرف عمومی جرائم کے الزام کے تحت کارروائی بھی کی جارہی ہے۔

ان افراد کے خلاف عائد الزامات کا اعلان برطانیہ کے اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے منگل کی شام پارلیمینٹ میں کیا۔

پہلے مقدمے میں فوجیوں پر ایک آپریشن کے بعد گرفتار کئے گئے افراد کے ساتھ کئے گئے کئی جرائم کا الزام ہے۔ گرفتار کئے جانے والے عراقیوں میں سے ایک شخص کو ، جس کا نام بہا داؤد موسٰی تھا ، لنکاشائر رجمنٹ کے کورپورل ڈونلڈ پین نے ہلاک کردیا تھا۔

اسی رجمنٹ کے تین اور فوجی لانس کورپورل وین کروکروفٹ ، پرائیویٹ ڈیرن فیلن اور سارجنٹ کیلون سٹیسی پر بھی جنگی نوعیت کے مختلف جرائم کرنے کا الزام ہے۔

برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ماضی کے برعکس جنگی جرائم کے یہ مقدمات ہالینڈ کے شہر ہیگ میں چلائے جانے کی بجائے برطانیہ میں ہی چلائے جائیں گے۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ برظانوی وزارت دفاع کے نکتہ نظر سے سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اس رجمنٹ کے سربراہ کرنل یورگ مینڈونکا کو بھی ان الزامات کا سامنا ہے۔ کرنل منڈونکا عراق میں جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والے سب سے اعلٰی برطانوی فوجی ہیں۔

دوسرے مقدمے میں بھی چار برطانوی فوجیوں پر ایک عراقی شہری احمد جبار کریم کو زدوکوب کرنے اور ایک نہر میں دھکا دینے کا الزام ہے۔ مسٹر امحد جبار نہر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔

برطانیہ کے سیکرٹری دفاع کا کہنا ہے کہ جب تک ان فوجیوں پر عائد الزامات ثابت نہیں ہوتے انہیں بے قصور تصور کرنا چاہئیے اور ان پر مقدمات کا فیصلہ اب عدالتیں ہی کریں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد