مزاحمت جائز ہے: مقتدیٰ الصدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سخت گیر شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ عراق میں جاری مزاحمت جائز ہے۔ کسی بھی مغربی میڈیا کو دئیے گئے پہلے انٹرویو میں مقتدیٰ الصدر ، جن کی مہدی ملیشیا نے نجف میں امریکی فوج کے ساتھ لڑائی کی تھی، بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر بش بھی اس بات سے متفق ہوں گے کہ قابض فوج کے خلاف مزاحمت صحیح راستہ ہے۔ تاہم انہوں نے عراقیوں سے اپیل کی کہ وہ ضبط سے کام لیں اور امریکی فوجیوں کی طرف محتاط رویہ رکھیں۔ مقتدیٰ الصدر نے یہ بھی کہا کہ وہ جمہوری عمل میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ’جس کسی کو بھی اس عمل میں شریک ہونا ہے اسے ایسا کرنے دیئے جانا چاہئیے۔‘ مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ ’مزاحمت خواہ وہ مذہبی ، نظریاتی یا کسی بھی سطح پر ہو جائز ہے۔‘ ’پہلا شخص جو اس بات سے متفق ہوگا وہ خود امریکہ کے نام نہاد صدر بش ہوں گے جنہوں نے کہا تھا کہ اگر میرے ملک پر قبضہ ہو تو میں لڑوں گا۔‘ مقتدیٰ الصدر نے ماضی میں غیر ملکی فوج کے خلاف قومی سطح پر مزاحمت کی حمایت کی ہے اور اس سلسلے میں اپنی مہدی ملیشیا کا استعمال بھی کیا ہے۔ لیکن اب اس انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ ’وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ محاذ آرائی نہیں چاہتا۔‘ ’لہٰذا میں عراقی فوج اور عراقی پولیس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ضبط سے کام لیں اور قابض فوج کے ساتھ نہ الجھیں کیونکہ یہ عراق کے مفاد میں نہیں ہے۔‘ مقتدیٰ الصدر نے یہ بھی کہا کہ ’میں عراقی عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ ضبط سے کام لیں اور مغرب کے یا قابض فوج کے منصوبوں میں مت الجھیں جن کا مقصد انہیں مشتعل کرنا ہے۔‘ مقتدیٰ الصدر کا کہنا تھا کہ عراق میں حالیہ مسائل کی وجہ غیر ملکی فوج کی موجودگی ہے۔ ’عراق پر قبضہ خود ایک مسلۂ ہے ، عراق کا آزاد نہ ہونا ایک مسئلہ ہے اور فرقہ واریت سے لے کر خانہ جنگی تک کے باقی مسائل انہیں سے نکلیں ہیں۔‘ مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ امریکی فوج کے قبضے تک وہ نئے آئین کی تشکیل یا کسی سیاسی کردار کو قبول نہیں کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||