 |  خود کش حملہ آور نے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دور دور تک آگ لگ گئی |
عراقی دارالحکومت بغداد کے جنوب میں واقع قصبے میں ایک خودکش حملے میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک اور اسی سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ حملہ آور کے دھماکے سے ایک شیعہ مسجد کے قریب ایک پٹرول ٹینکر اڑگیا جس کے نتیجے میں مکانات، چائے خانوں اور دوکانوں سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگ گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو قریب ہی واقع شہروں کے ہسپتالوں میں بھیجنا پڑا۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ المسیب میں پہلے بھی دھماکے ہوتے رہے ہیں لیکن ایسے دھماکے کی مثال نہیں ملتی۔ عراق میں خود کش حملوں میں تیزی آ گئی ہے اور صرف پچھلے ایک ہفتے میں سولہ خود کش حملوں میں سو سے زیادہ عراقی ہلاک ہو گئے ہیں۔ جعمہ کے روز ایک دن میں دس خود کش بم ہوئے۔ ایک اسلامی ویب سائٹ پر عراق میں سرگرم القاعدہ نے کہا کہ عراق میں ان کے رہنماء ابو مصعب الزرقوی نے انہیں حملے تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ سنیچر کو تین برطانوی فوجی اس وقت ہلاک کر دیئے گئے جب شمال مشرقی عراق کے شہر امارہ میں روڈ پر پڑا ہوا بم پھٹ گیا جہاں سے برطانوی فوجیوں کی گاڑی گزر رہی تھی۔ المسیب کربلا کے نزدیک واقعہ ہے اور یہاں سنی اور شیعہ دونوں اس شہر میں بستے ہیں ۔ المسیب کے پولیس سربراہ نے کہا کہ آج کا دن المسیب کی تاریخ میں سب سے سیاہ دن ہے۔
|