عراق: خوف کے سائے میں زندگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی سکیورٹی سے متعلق امریکی سفارتخانے کی ایک اندرونی رپورٹ کے مطابق ’محفوظ علاقہ‘ سمجھے جانے والے عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں صورتحال اتنی ہی خراب ہے جتنی کہ ملک کے شمالی علاقوں کی۔ تیل سے مالا مال شہر اپنے شہریوں اور وہاں تعینات برطانوی فوجیوں کے لیئے خطرناک سے خطرناک تر ہوتا جارہا ہے۔ عراقی مترجم پولیس سے اپنی شناخت مخفی رکھنے کے لیئے نقاب پہنتے ہیں۔ محمد حسن ایک کاروباری شخص ہے۔ وہ کاروبار کے سلسلے میں بصرہ میں سفر کررہا تھا کہ اسے پولیس نے روک لیا اور اپنے ساتھ بظاہر ’وزارت اطلاعات‘ لے گئے اور انہیں مسلسل چار گھنٹوں تک تشددکا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ زندہ بچ گئے۔ افشا ہونے والی خفیہ امریکی رپورٹ کے مطابق شہر میں ملیشیا کارروائیاں زوروں پر ہیں جبکہ سمگلنگ اور مجرمانہ کارروائیاں بھی بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہیں۔ لوگوں میں یہ خوف ہے کہ انہیں کسی بھی وقت پولیس پکڑ کر لے جا سکتی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے کی پولیس بھی یہاں سرگرم مسلح ملیشیا سے کم نہیں۔ محمد حسن کا کہنا ہے کہ پولیس کے بیشتر افسران بھی بد عنوان ہیں۔ ’اگر آپ کسی مسئلے کے لیئے پولیس کو بلائیں تو معلوم نہیں آگے کیا ہو۔ وہ آپ کو جان سے مار بھی سکتے ہیں‘۔ علاقے کی سکیورٹی کے لیئے تعینات فوجیوں کا کہنا ہے کہ صرف چند لوگ ہی علاقےکے مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم اب لوگوں میں خوف بیٹھتا جارہا ہے کہ اکثریت قابل بھروسہ نہیں ہے۔ بچوں کے اغوا کے واقعات عام ہیں، لوگوں کو اپنے ہمسائیوں سے بھی محتاط رہنا پڑتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے منسلک ملیشیا کے افراد کو پولیس میں بھرتی کیا گیا ہے۔ فوج اس پر کام کررہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ کون لوگ ہیں اور کس کے لیئے کام کرتے ہیں۔ تاہم مقامی انتظامیہ کے عدم تعاون کے باعث ابھی تک فوج کو زیادہ کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ 2004 میں عکسبند کی گئی اس وڈیو کے ستمبر میں سامنے آنے کے بعد بصرہ کی انتظامیہ نے فوج کے ساتھ تعاون کرنا بند کردیا ہے جس میں فوجیوں کو مقامی افراد پر جسمانی تشدد کرتے دکھایا گیا تھا۔ مقامی پولیس نے فوج کے زیر تربیت ٹریننگ پروگراموں میں حصہ لینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا مطالبہ ہے کہ وہاں پر فوجی اڈوں سے فوجیوں کا نکالا جائے، شہر میں گشت کرنے والے پٹرول کم کیئے جائیں اور ان 56 افراد کو رہا کیا جائے جنہیں سکیورٹی کے لیئے خطرہ سمجھ کر حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم ان مطالبات کے پورے ہونے کا کوئی امکان نہیں اور صورتحال بدستور خراب ہے۔ دیگر تین صوبوں میں پولیس کے لیئے آرمی کی تربیت جاری ہے۔ عراق کے وہ افراد جو بطور مترجم برطانوی فوج کے ساتھ کام کرتے ہیں، اپنی شناخت مخفی رکھنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ اب صحافی فوجی اڈوں پر پریس کانفرنسوں میں شرکت کرنے سے ڈرنے لگے ہیں۔ ایک صحافی نے اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ عراق کے عام افراد سے پوچھیں کہ بم کون لگاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ برطانوی فوج۔ برطانوی ادارو ں کے ساتھ کام کرنے والے عراقیوں کو جن کا خطرہ ہے اور وہ ہر وقت خوف کے سائے تلے زندہ ہیں۔ بصرہ کے لوگ اس خوف کو کم کرنے میں بے بس ہیں۔ | اسی بارے میں شیعہ سنیوں نے ساتھ نمازیں ادا کیں25 February, 2006 | آس پاس عراق میں خانہ جنگی نہیں: بش21 March, 2006 | آس پاس کرفیو: بغداد میں سڑکیں سنسان24 February, 2006 | آس پاس عراقی شہریوں کی ہلاکت، تفتیش21 March, 2006 | آس پاس عراق: اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک21 March, 2006 | آس پاس ’فوری عراقی حکومت ضروری‘22 March, 2006 | آس پاس بغداد سے برطانوی یرغمالی رہا23 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||