گوانتانامومیں امریکیوں کا ظلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاناموجیل میں دس ماہ کاشیر خوار بچہ ایک سو پچیس سالہ قیدی کے ہمراہ ایام اسیری گزار رہا ہے۔ اس بات کاانکشاف پچھلے سال گوانتانامو جیل سے رہائی پانے والے عبدالرحیم مسلم دوست اورانکے بھائی بدرالزمان بدر نے اپنی کتاب ’گوانتانامو ماتی زولنے‘ (گوانتانامو کی ٹوٹی زنجیریں) میں کیا ہے۔ پشتو زبان میں 453 صفحات پر مشتمل یہ کتاب حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں مصنفین نے پاکستان میں انکی گرفتاری سے لےکر باگرام اور قندھار کی جیلوں سے ہوتے ہوئے گوانتانامو جیل تک اپنے سفر کی روداد اور ان جیلوں میں اپنے قیام کے دوران پیش آنے والے حالات و واقعات کو اسناد کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مصنفین نے کتاب میں مزید انکشاف کرتے ہوئےلکھاہے کہ دس ماہ کے بچے سے لے کر ایک سو پچیس سال تک کی عمر کےافراد بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے ہیں۔ دس ماہ کے اس بچے کو پاکستان کے شہر کوئٹہ سے اپنے والد کے ہمراہ گوانتانامو جیل لایا گیا تھا جسے بعد میں ایک امریکی گھرانے نے گود لے لیا۔ دو سال بعد رہائی پا کر باپ کے ہمراہ یہ بچہ بھی اپنے ملک واپس آ گیا۔ دیگر بچوں میں دس سال سے چودہ سال تک کے بچے شامل ہیں۔کتاب میں ان تکالیف اور مشکلات کا تفصیلی ذکر کیاگیا ہے جو دوران قید مصنفین سمیت دوسرے قیدیوں کو پیش آئیں۔ چونسٹھ تصاویر کے ذریعے امریکی فوجیوں کو ان قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہوے دکھایا گیا ہے۔ قیدیوں کو تفتیش کیلئے لے جاتے وقت امریکی فوجیوں کو لات اور مکےمارتے ہوے دکھایا گیا ہے۔ دوسری تصویر میں ایک قیدی کوننگا کرکے بندوق کی نوک پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لےجایاجارہاہے۔ بعض قیدیوں کی مونچھیں، داڑھی اور سر کے بال منڈواتے ھوئے دکھایا گیا ہے۔ غرض یہ کہ انہی شرمناک تصاویر کے ذریعے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جمہوریت کے علمبردار کس طرح انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہوئے انسانیت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر وہ تصویریں ہیں جوامریکی فوجیوں نے مغربی میڈیا کو مہنگے داموں فروخت کرنے کی غرض سے لی تھیں۔ عبدالرحیم اور انکے بھائی بدرالزمان بدر کونومبر 2001 میں پشاور سے گرفتار کیاگیا پھر باگرام اور قندھار کی جیلوں میں بھیج دیا گیا اور پھرگوانتاناموکی جیل میں پہنچا دیئے گئےجہاں سے ان کو اپریل 2005 میں رہائی ملی۔ اس تین سال سے زیادہ عرصے میں دونوں صحافی بھائیوں نے بہت کچھ لکھا۔ لیکن سب کچھ وہیں چھوڑ آئے۔ 45 سالہ عبدالرحیم کہتے ہیں ’شروع کے چودہ مہینے ہمیں کاغذ اور قلم نہیں ملتی تھی لیکن جب ملنی شروع ہوگئی تو میں نے اس دوران قرآن کریم کی تفسیر کے علاوہ منظوم فقہ اور پشتو گرامر پر اور پچیس ہزاراشعار بھی لکھے لیکن ہمارا سارا ذہنی اثاثہ امریکی فوجیوں نے ہم سے چھین لیااور اصرار کے باوجود بھی ہمیں نہیں دیا گیا۔ کتاب میں گوانتانامو جیل کے اندر خواتین قیدیوں کے موجود ہونے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ دوران تفتیش ایک تفتیشی افسر نے غلطی سے ایک فارم میز پرچھوڑ دیا جو ایک عربی قیدی کےہاتھ لگا جس میں درج تھا کہ آپکو کب اور کہاں سے گرفتار کیا گیا تھا؟ کیا آپکے شوہر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا؟ اور یہ کہ آپ حاملہ ہیں یا نہیں؟ اور پھر جواب کے خانوں میں لکھا گیا تھا کہ مجھے لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا اور میرے شوہرگرفتار کر لئے گئےتھے اور میں حاملہ بھی ہوں۔ استاد بدرالزمان بدر کا کہنا ہے کہ اگر چہ ہم نے کسی خاتون کو اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا لیکن بعض امریکی فوجیوں سےسنا ضرورتھا کہ جیل میں خواتین قیدی بھی موجود ہیں۔مصنفین نے کتاب میں گوانتانامو جیل کو عالم برزخ سے تشبیہ دی ہے۔ جہاں قیدی دنیا ومافیہا سے بے خبر سارا وقت امریکی فوجیوں کے مظالم کا تماشہ دیکھتے ہیں اور اپنی بے بسی پردل ہی دل میں امریکیوں کو گالیاں دیا کرتے ہیں۔ عبدالرحیم کو دوران قید گھر کی طرف سے بہت سارے خطوط لکھے گئے لیکن مشکل سے چند ہی خطوط ان تک پہنچےاور جو مل بھی جاتے تھے انکا زیادہ تر حصہ امریکی اہلکاروں کے ہاتھوں مٹایاہواہوتاتھا ۔ نمونے کے طور پر چند خطوط کتاب میں شامل کئے گئے ہیں۔ پینتیس سالہ بدرالزمان نے اسکی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ایساہماری تشویش اور اضطراب میں مزید اضافہ کرنے کیلئے کرتے تھے۔یاد رہے کہ پچھلے ہفتے پاکستان میں افغانستان کے سا بق سفیر ملا عبدالسلام ضیف کی پشتو تصنیف گوانتانامو انظور(گونٹنامو کی تصویر) بھی چھپ کر منطرعام پرآچکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||