BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: اردو میں پہلی جیل ڈائری

کتاب افتخار کی گرفتاری کے بعد جیل کے واقعات کا خلاصہ ہے
برطانیہ کی اشاعتی کمپنی پینگوئن نےاردو زبان میں جو پہلی کتاب ’تہاڑ کے میرے شب روز’ شا‏ئع کی ہے وہ صحافی افتخار گیلانی کی جیل میں قید و بند کی داستان ہے اور اردو زبان میں کوئی بھی جیل ڈائری کافی مدت بعد سامنے آئی ہے۔

یہ کتاب ’مائی ڈیز ان پریزن’ کے نام سےگزشتہ برس منظر عام پر آئی تھی اور اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ایک برس کے اندر ہی اس کے چار ایڈشن فروخت ہوچکے ہیں۔ اردو میں اس کا اجراء اس ہفتے ہورہا ہے۔

افتخار گیلانی کوسنہ دوہزار دو میں کشمیر میں ہندوستانی فوج کی نقل و حرکت اور تعداد کے متعلق جاسوسی کے الزام میں پولیس نے ان کے گھر سے گرفتار کیا کرکے تہاڑ جیل میں قید کیا تھا۔

ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے احتجاج پر حکومت نے الزامات تو واپس لے لیےاور گیلانی کو جنوری دوہزار تین میں باعزت بری کردیا گیا تھا۔

یہ کتاب اسی گرفتاری کے بعد جیل میں پیش آنے والے دردناک واقعات کا خلاصہ ہے۔

گیلانی نے اپنی کتاب میں بڑے سلیس انداز میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ تہاڑ جیل میں ایک قیدی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔

’ایک عام قیدی کی حیثیت سے میری کوشش یہی رہی ہے کہ فوکس مجھ پر رہے اور ’جیل کے اندر کے واقعات و جیل کی دنیا کے بارے میں لوگوں کو روشناس کراسکوں’۔

افتخار گیلانی کی کتاب سے اقتباس
 قیدی اور جیل ملازم دونوں مجھے غداری کی سزا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ ہوش آنے کے بعد میں نے خود کو راہداری میں پڑا پایا۔ میرا چہرہ خون سے لت پت تھا۔ مجھے حکم دیا گیا کہ جاکر اپنا چہرہ دھو ڈالوں۔ باتھ روم میں جاتے ہوئے بھی گالیاں میرا پیچھا کرتی رہیں۔ تب ہی ایک آواز گرجی ’ٹائلٹ صاف کرو’

کتاب میں بڑی سادگی کے ساتھ واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ تہاڑ جیل میں جاتے ہی ان پر جو کچھ گزری اس کا تذکرہ کچھ یوں ہے:

’ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ نے میرا نام پوچھا۔ ابھی میں اپنا پورا نام بتا بھی نہیں پایا تھا کہ ایک نیپال نثراد جیل ملازم آنند نے میرے منھ پر ایک زور کا تھپڑ رسید کیا۔ یہ باقی لو‏گوں کے لیے اشارہ تھا۔ ایک ساتھ سب لوگ مجھ پر پل پڑے ۔ پیچھے سے لاتوں اور کمر پر گھونسوں کی بارش شروع ہوگئی۔ میں اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ کی میز پر گر پڑا۔ اس نے بالوں کو ہاتھ میں جکڑ کر میرا سر زور سے میز پر دے مارا۔

’میرے منہ سے خون نکلنے لگا۔ مجھے لگا ناک اور کان سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے ساتھ چن چن کر گالیاں بھی دی جارہی تھیں۔ ’سالا ‏غدار، پاکستانی ایجینٹ’، وہ چلا رہے تھے۔ کچھ لوگ ڈنڈوں سے بھی پیٹ رہے تھے۔ تم جیسوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں۔ سالے غداروں کو سیدھے پھانسی لگا دینی چاہیے۔ یہ نعرہ ایک زیر سماعت قیدی ونود پنچم کا تھا ۔ بعد میں جیل کے اندر بھی اس نے مجھے حبی الوطنی کا سبق سکھانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔

’حب الوطنی کا یہ درس آدھے گھنٹے میری بے ہوشی تک جاری رہا۔ قیدی اور جیل ملازم دونوں مجھے غداری کی سزا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ ہوش آنے کے بعد میں نے خود کو راہداری میں پڑا پایا۔ میرا چہرہ خون سے لت پت تھا۔ مجھے حکم دیا گیا کہ جاکر اپنا چہرہ دھو ڈالوں۔ باتھ روم میں جاتے ہوئے بھی گالیاں میرا پیچھا کرتی رہیں۔ تب ہی ایک آواز گرجی ’ٹائلٹ صاف کرو’۔

کتاب میں جہاں کئی واقعات ایسے ہیں جنہیں پڑھ کر آنکھیں نم ہوجاتی ہیں تو کئی ایسے بھی ہیں جنہیں پڑھکر قہقہہ لگائے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔

اس کتاب میں ’میڈیا ٹرائل’ پر بھی ایک خاص مضمون ہے جس میں میڈیا کے
غیرذمہ دارنہ رویئے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ مضمون اب کئی میڈیا انسٹیٹیوٹ کے نصاب میں بھی شامل ہے۔

افتخارگیلانی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں بیشتر میڈیا آرگنائزیشن غلط باتوں کو حقیقت بناکر نشر کرتے ہیں تاکہ ایک خاص رائے عامہ ہموار کی جاسکی۔’یہی میرے ساتھ ہوا تھا۔ میرے خلاف بلا تحقیق رپورٹیں شا‏ئع کی گئیں جن سے میری مشکلیں اور بڑھ گئی تھیں’۔

افتخار کے مطابق آج کل ممبئی بم دھماکوں کے متعلق بھی میڈیا کا وہی رویہ ہے۔

اس کتاب کی خوبی یہی ہے کہ جیل کے تمام واقعات بڑے سادہ انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ گیلانی نے شکایت کے بجائے یہ بتانے کوشش کی ہے کہ جمہوری ملک میں انصاف، سچائی اور فرد کی آزادی کو نہیں دبایا جاسکتا۔

انہوں نے اپنے او پر عائد کیے گئے الزمات کو غلط ثابت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد