ہندو مسلم رشتوں پر دستاویزی کتاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں نیشنل بک ٹرسٹ نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے رشتوں پر ایک کتاب شائع کی ہے جسے تاریخ کی ایک اہم دستاویز مانا جارہا ہے۔اس کتاب کا نام ’ سامپردایک سمسیا‘ یعنی فرقہ وارانہ مسائل ہے۔ یہ کتاب سنہ 1931میں کانپور میں ہونے والے فسادات کے متعلق کانگریس کی تیار کی ہوئی ایک رپورٹ پر مبنی ہے۔ برطانوی حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ریاست اترانچل کی دارالحکومت دہرادون کے ایک کتابی میلے میں اس کتاب کو ریلیز کیا گیاہے۔ اسے ہندی، انگریزی اور اردو زبان میں شائع کیا گیا ہے۔ چوبیس مارچ انیس سو اکتیس کو کانپور میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے جن پر انتظامیہ کئی روز تک قابو نہیں پاسکی تھی۔ ان فسادات میں مشہور مجاہد آزادی گنیش شنکر ودھیارتی بھی مارے گۓ تھے۔اس سے کچھ دن قبل ہی بنارس میں بھی فسادات ہوئے تھے۔ فسادات اور دونوں برادریوں کے درمیان بڑھتی تلخیوں کی تفتیش کے لیے کانگریس نےاپنے کراچی کے اجلاس میں چھ ممبران کی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ کو کانگریس نے سن 1933میں شائع کیا تھا لیکن برطانوی حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس تاریخی دستاویز کو سات عشروں کے بعد پہلی بار ایک کتاب کی شکل میں شائع کیاگیا ہے۔ مشہور مورخ اور نیشنل بک ٹرسٹ کے صدر پروفیسر وپن چندرا کے مطابق ’جدید ہندوستان میں فرقہ پرستی کی شروعات، اسکے پھیلاؤ کی وجہ اور اس سے نجات پانے کے لیے جو تدبیریں اس کتاب میں دی گئی ہیں وہ کسی دوسری کتاب میں نہیں ہیں‘۔ کتاب کے بعض اقتباسات پر اگر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کے بھڑکنے کی وجوہات وقتی نہیں ہوتیں بلکہ اسکی مضبوط جڑیں ان سماجی و سیاسی حالات سے پنپتی ہیں جو ایک مدت سے سماج میں پروان چڑھتی رہی ہوں۔ کتاب میں کئی مورخوں کے مکالے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ فرقہ پرستی صدیوں پرانا مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ اکثر کہا جاتا ہے بلکہ اس کا آغاز نو آبادیاتی دور میں ہوا تھا۔ کتاب میں برطانوی مورخین کے اس نظریے کو بھی غلط بتایا گیاہے جس میں مذہب اسلام اور ہندوازم کو دو مختلف مذاہب بتا کر دو الگ الگ ستون میں تقسیم کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ دونوں کے آپس کے رشتے تاریخی طور پر ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ اس کے برعکس مذکورہ کتاب میں کہا گیا ہے کہ ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ امن و آستی سے رہتے آئے ہیں۔ نیشنل بک ٹرسٹ کے مشیر منگلیش ڈبرال کا کہنا تھا کہ ’ اس کتاب کی اہمیت اس دور میں زیادہ ہے کیونکہ فرقہ پرستی آج کل ایک بڑا مسئلہ ہے۔اس دور میں کوئی بھی موقع پرست گروپ جب چاہتا ہے فسادات کرادیتا ہے‘۔ | اسی بارے میں ہندوؤں کی مسلمانوں کودھمکی05 October, 2005 | انڈیا بش دورہ: لکھنؤ فسادات، چار ہلاک03 March, 2006 | انڈیا ہندو لیڈر کی کار سے لاشیں برآمد18 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||