BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 May, 2006, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندو لیڈر کی کار سے لاشیں برآمد

حال ہی ودودرہ میں ایک مزار کے منہدم کیے جانے سے فسادات بھڑک اٹھے تھے
مغربی ریاست گجرات میں ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے ایک لیڈر کی کار سے دو مسلم بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ دونوں بچے دو روز قبل ایک شادی کی تقریب گئے تھے اور تبھی سے وہ لاپتہ بتائے گئے تھے۔

یہ واقعہ ضلع وڈودرہ کے دبھوئی قصبے کا ہے۔ وڈودرہ میں حال ہی میں ایک مزار کے منہدم کرنے کے بعد فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے اور اس خبر کے بعد علاقے میں حالات پھر کشیدہ ہوگۓ ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب کار سے لاشیں نکالی گئیں تو وہ روڈ کے کنارے کھڑی تھی اور اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ لاش کار کے اندر کیسے پہنچیں ہیں۔اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ کار کے مالک وشو ہندو پریشد کے ایک کارکن ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات نہ بھڑکیں۔ پولیس کے مطابق علاقے میں امن وامن کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیئے ہر طرح کے ممکنہ اقدامات کیئے جارہے ہیں۔

دبھوئی وڈودرہ کے علاقے میں ہے جو فرقہ وارانہ فسادات کی نوعیت سے بہت ہی حساس مانا جاتا ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں وڈودرہ میں فرقہ وارانہ تشدد میں چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سن 2002 میں ریاست گجرات میں فرقہ وارنہ فسادات ہوئے‌ تھے جن میں تقریبا دو ہزار لوگ ہلاک ہوئے اور مرنے والوں میں بیشتر مسلمان تھے۔

واجپائیواجپئی کا یوٹرن
اچانک نریندر مودی کی مخالفت کیوں؟
گودھرا انکوائری
ٹرین میں آتشزدگی ایک حادثہ تھی: رپورٹ
اسی بارے میں
’گواہ کو رشوت نہیں دی‘
22 December, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد