BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 May, 2006, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ظاہرہ کی والدہ کو تین ماہ قید

ظاہرہ شیخ
ظاہرہ شیخ بیسٹ بیکری مقدمے کی چشم دید گواہ ہیں
بیسٹ بیکری معاملے کی منحرف گواہ ظاہرہ شیخ کی والدہ کو ممبئی کی ایک عدالت نے حلف لے کر عدالت میں جھوٹ بولنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے انہیں پانچ سو روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

اس سے قبل مارچ میں انڈیا کی عدالت عالیہ ظاہرہ شیخ کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک سال کی سزا سنا چکی ہے۔ وہ اس وقت ممبئی کی بائیکلہ جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں۔

پیر کے روز عدالت میں ظاہرہ کی والدہ سحرالنساء نے یہی کہا کہ انہیں کچھ نہیں معلوم۔ تاہم جج نے سحرالنساء کو جھوٹ بولنے کا مرتکب قرار دیا۔

بیسٹ بیکری ہلاکتیں
گجرات میں سن دو ہزار دو میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہنومان ٹیکری پر واقع بیسٹ بیکری میں مسلمانوں نے پناہ لی تھی۔ لیکن اسے ہندوؤں کے ایک ہجوم نے جلا دیا تھا اس آگ میں جھلس کر چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گجرات میں سن دو ہزار دو میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہنومان ٹیکری پر واقع بیسٹ بیکری میں مسلمانوں نے پناہ لی تھی۔ لیکن اسے ہندوؤں کے ایک ہجوم نے جلا دیا تھا اس آگ میں جھلس کر چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ظاہرہ اس معاملے کی چشم دید گواہ تھیں۔ پولیس کے مطابق ظاہرہ نے فسادیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ جس کے بعد گجرات کی فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں ظاہرہ نے فسادیوں کو پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں انہوں نے سماجی کارکن تیستا سیتلواد سے کہا تھا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں اس لیئے انہوں نے عدالت میں جھوٹ بولا تھا۔

گجرات فسادات
ظاہرہ کے مطابق انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں اس لیئے انہوں نے عدالت میں جھوٹ بولا

تیستا نے سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس کو گجرات سے باہر چلائے جانے کے اجازت طلب کی تھی اور عدالت عالیہ نے اس مقدمہ کو ممبئی کی عدالت میں جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

لیکن عدالت میں ظاہرہ ایک بار پھر اپنے بیان سے پلٹ گئيں اور کہا کہ انہوں نے پہلے جو بیان دیا تھا وہ صحیح ہے۔ اصلیت جاننے کے لیئے سپریم کورٹ نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے ظاہرہ کو جھوٹا قرار دیا۔

عدالت نے ظاہرہ کو توہین عدالت کا قصوروار قرار دیا اور ایک سال قید کی سزا کے ساتھ پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ اس وقت ظاہرہ جیل میں ہیں اور اب ان کی ماں بھی اسی جیل میں تین ماہ کی سزا کاٹیں گی۔

فی الحال عدالت کے حکم کے بعد ظاہرہ کے تمام بینک کھاتے منجمد کر دیئے گئے ہیں اور انکم ٹیکس کا ادارہ اس بات کی تفتیش کر رہا ہے کہ ان کے پاس یہ دولت کہاں سے آئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد