بیسٹ بیکری کیس: نو ملزموں کو سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی ایک عدالت نے ریاست گجرات میں چار سال قبل ہونے والے فسادات سے متعلق بیسٹ بیکری کیس میں نو ملزموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے حملے میں نامزد اکیس میں سے آٹھ افراد کو بری کر دیا ہے۔ چار ملزموں کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ گجرات فسادات میں بارہ مسلمانوں اور دو دیگر افراد کو بیسٹ بیکری پر حملے کے بعد مبینہ طور پر ہندوؤں نے زندہ جلا دیا تھا۔ فسادات فروری دو ہزار دو میں گودھرا کی ایک ٹرین میں ساٹھ ہندوؤں کے جل کر مرجانے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ ان واقعات میں ایک ہزار افراد جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی، مارے گئے تھے۔ تاہم حقوقِ انسانی کے گروپوں کے مطابق فسادات میں مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ اس مقدمے کی از سرِ نو سماعت ایک خصوصی عدالت نے کی جس نے قرار دیا کہ اکیس میں سے نو ملزم بیکری پر حملے کے ذمہ دار ہیں۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ ممبئی کی خصوصی عدالت نے سماجی کار کن تیستا سیتل واڈ کو بھی بری کردیا ہے جنکی کوششوں کے سبب ہی اس مقدمے کو از سر نو سماعت کے لیے مہاراشٹر منتقل کیا گیا تھا۔ فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوۓ تیستا نے کہا کہ انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک لمبی لڑائی لڑنی پڑی لیکن وہ اب مطمئن ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ ’ظاہرہ شیخ کو انہوں نے بہت سمجھایا تھا کہ وہ منحرف نہ ہو کچھ دن صبر کر لے قوم اسے سر آنکھوں پر بٹھائے گی اور اسے سب کچھ ملے گا لیکن وہ نہیں مانی۔‘
اولین سماعت میں تمام ملزمان کو استغاثہ کی اہم ترین گواہ ظاہرہ شیخ کے بیان سے منحرف ہونے کے بعد بری کر دیا گیا تھا۔ گواہ کا کہنا تھا کہ مقامی سیاست دانوں کی دھمکیوں کے باعث انہوں نے اپنے بیان سے انحراف کیا تھا۔ اس پر عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا تھا کہ اس مقدمے کی از سرِ نو سماعت گجرات کی بجائے مہاراشٹر کی ریاست میں کی جائے۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے قائم کردہ ایک کمیٹی نے یہ کہا تھا کہ ظاہرہ شیخ نے جھوٹی گواہی دی تھی۔ کمیٹی کا خیال تھا کہ گواہ کو جھوٹ بولنے کے لیئے رشوت دی گئی۔
جعمہ کو عدالت نے ظاہرہ شیخ اور ان کے خاندان کو جھوٹی گواہی کا مرتکب پاتے ہوئے انہیں اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہ خصوصی پراسیکیوٹر منجولا راؤ نے بی بی سی کو بتایا: ’میں مطمئن ہوں کہ ظاہرہ اور ان کے خاندان کو نوٹس جاری کیئے گئے ہیں۔ یہ مقدمہ ایسے دوسرے لوگوں کے لیئے بھی ایک واضح اشارہ بن جائے گا۔‘ تشدد کے دوران نشانہ بننے والے افراد کی مدد کو نہ آنے پرگجرات پولیس اور مقامی حکام پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ گجرات کے فسادات کو انیس سو سینتالیس کی تقسیم کے بعد انڈیا کے بدترین فسادات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سابرمتی ایکسپریس پر اس وقت حملہ ہوا تھا جب وہ ہندؤں کے متنازعہ مقدس مقام ایودھیا سے زائرین کو واپس لا رہی تھی۔ یہ آج تک واضح نہیں ہوسکا کہ اس ٹرین کو جس میں ہندو زائرین اور ان کے خاندان کے لوگ سوار تھے، آگ کیسے لگی۔ ریلوے کی وزارت کی طرف سے کی جانے والی ایک عبوری انکوائری کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آگ اتفاقیہ لگی تھی لیکن انڈیا میں اپوزیشن کی بڑی جماعت بی جے پی اس موقف سے اختلاف کرتی ہے۔ | اسی بارے میں بیسٹ بیکری: ’سی بی آئی تفتیش کرے‘06 November, 2004 | انڈیا بیسٹ بیکری کیس: گرفتاریوں کا حکم19 July, 2004 | انڈیا گجرات فسادات مقدمے کی سماعت 04 October, 2004 | انڈیا ظاہرہ جھوٹی ہیں: انکوائری کمیٹی29 August, 2005 | انڈیا تیستا کےخلاف ایف آئی آر درج 10 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||