BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 May, 2006, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وڈودرہ انہدامی کارروائی معطل

وڈودرہ میں چن دنوں سے کشیدگی جاری ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت کی ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نےگجرات کے فسادزدہ شہر وڈودرہ میں ناجائز تعمیرات کی انہدامی کارروائی پر فوری طور پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی جانب سے مفاد عامہ کی ایک عرضداشت پر سماعت کے بعد کیا ہے۔

گجرات کی انتظامیہ نےغیر قانونی تعمیرات کے خلاف انہدامی کارروائی کی ایک مہم چھیڑ ی تھی۔اس کارروائی کے تحت وڈودرہ میں واقع ایک قدیمی مزار کو منہدم کردیا گیا تھا جس کے سبب شہر میں تشدد بھڑک اٹھا ہے۔ لیکن گجرات ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں سرکاری زمین پر تعمیرشدہ تمام غیرقانونی عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

مرکزی حکومت نے ہائی کورٹ کے اسی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی و ریاستی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

مرکزی حکومت نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ ’وڈودرہ میں حالات بہت کشیدہ ہیں اس لیئے انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی جائے۔ اگر انہدامی کارروائی جاری رہی تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں اور اس کے اثرات دوسری ریاستوں میں بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔‘

وڈودرہ میں گزشتہ پیر کو اس وقت پرتشدد مظاہرے شروع ہوئے تھے جب ناجائز تعمیرات ہٹانے کی مہم کے دوران پولیس نے دو سو برس سے بھی قدیم ایک درگاہ منہدم کردی تھی۔ مقامی مسلمانوں نے درگاہ کے انہدام کے خلاف احتجاج شروع کیا تھااور جب صورت حال قابو سے باہر ہوئی تو پولیس کو گولی چلانی پڑی تھی۔

اس کے بعد پولیس اور مقامی مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد تشدد شروع ہوا تھا جو بعد میں فرقہ وارانہ رخ اختیار کرگیا اور بدھ کو ایک مسلم نوجوان کو مشتعل ہندوؤں کے ہجوم نے زندہ جلا دیا تھا۔

داخلی امور کے وزیرمملکت سری پرکاش جیسوال نے وڈودرہ کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے اپنی رپورٹ مرکزی حکومت کو سونپ دی ہے۔ بی بی سی سے بات چیت کے دوران مسٹر جیسوال نے کہا کہ ’اس پورے معاملے سے نمٹنے کے لیئے انتظامیہ کو جو احتیاط برتنی چاہیۓ تھے وہ نہیں کیے گئے اور کہیں نہ کہیں لاپرواہی ضرور ہوئی ہے۔‘

مسٹر جیسوال کا کہنا تھا کہ روڈ کی تعمیر درست ہے لیکن دو ڈھائی سو برس پرانی عبادت گاہوں کو توڑا نہیں جاسکتا کیونکہ وہ تو روڈ سے پہلے تعمیر ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد