BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 May, 2006, 09:16 GMT 14:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وڈودرہ: کرفیو، فوج کو تیاری کا حکم

وڈودرہ
گزشہ شب بھی شہر کے بعض علاقوں میں پرتشدد واقعات ہوئے
گجرات میں حکام کا کہنا ہے کہ وڈودرہ میں کسی بھی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیئے فوج کو تیار رہنے کے لیئے کہا گیا ہے۔

بدھ کی شام کو فوج نے وڈودرہ کے متاثرہ علاقوں میں فلیگ مارچ کیا تھا تاہم بعد میں فوج کو ہٹا لیا گیا تھا اور فی الوقت مقامی پولیس اور نیم فوجی دستے حالت کی نگرانی کر رہے ہیں۔

بدھ کی رات شہر کے بعض علاقوں میں پرتشدد واقعات ہوئے ہیں تاہم ان میں کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔پیر سے اب تک تشدد کے واقعات میں چھ افراد ہلاک اور تقریباً ساٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ متاثرہ علاقوں میں آج چوتھے روز بھی کرفیوجاری ہے۔

ریاست گجرات کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ پوری ریاست کے حساس علاقوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئےگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’گجرات کے پانچ حساس اضلاع میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور تشدد سے بچنے کے لیئے نیم فوجی دستے تعینات کیئے گئے ہیں‘۔

وڈودرہ میں فوج کا فلیگ مارچ

پولیس افسر دیپک سوروپ کا کہنا ہے کہ’حالات پوری طرح قابو میں ہیں لیکن جن علاقوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی ہے وہاں بعض پر تشدد واقعات ہوئے ہیں‘۔

وڈودرہ میں گزشتہ پیر کو اس وقت پرتشدد مظاہرے شروع ہوئے تھے جب ناجائز تعمیرات ہٹانے کی مہم کے دوران پولیس نے دو سو برس قدیم درگاہ منہدم کردی تھی۔ مقامی مسلمانوں نے درگاہ کے انہدام کے خلاف احتجاج شروع کیا تھااور جب صورت حال قابو سے باہر ہوئی تو پولیس کو گولی چلانی پڑی تھی۔

وہ تشدد جو پولیس اور مقامی مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد شروع ہوا تھا بعد میں فرقہ وارانہ رخ اختیار کرگیا اور بدھ کو ایک مسلم نوجوان کو مشتعل ہندوؤں کے ہجوم نے زندہ جلا دیا تھا۔

تشدد ایک درگاہ کے منہدم کرنے پر شروع ہوا تھا

مرکزی حکومت نے ریاست کے وزیرِ اعلٰی نریندر مودی کو تشدد پر قابو پانے کے لیئے سخت کارروائی کرنے کی ہدایات دی تھیں تاکہ فسادات دوسرے علاقوں میں نہ پھیل سکیں۔ خود نریندر مودی نے بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اور امن کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ فسادیوں کو بخشا نہیں جائےگا خواہ وہ کسی بھی برادری سے تعلق رکھتے ہوں۔

داخلی امور کے وزیرِ مملکت سری پرکاش جیسوال نے بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اور آج وہ اپنی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کر یں گے۔ دورے کے بعد انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہجوم پر قابو پانے کے لیئےگولی چلانے کی پولیس کارروائی درست نہیں تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد