پولیس فائرنگ سے چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی ریاست گجرات کے شہر وڈودرہ میں پولیس اور مقامی مسلمانوں کے درمیان جھڑپ میں چار افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہيں۔ پولیس فائرنگ میں ہلاکتوں کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور کئی مقامات سے پتھراؤ کی اطلاعات ہیں۔ شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیشِ نظر کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پیر کو ناجائز تعمیرات ہٹانے کی مہم کے دوران پولیس نے ایک درگاہ کو منہدم کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ درگاہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ مقامی مسلمانوں نے درگاہ کے انہدام کے خلاف احتجاج شروع کیا اور جب صورت حال قابو سے باہر ہونے لگی تو پولیس کو گولی چلانی پڑی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقامی مسلمانوں نے حکام اور شہر کے میئر سے درخواست کی تھی کہ درگاہ کو منہدم نہ کیا جائے کیوں کہ یہ دو سو سال سے زيادہ پرانی ہے اور اس کے انہدام سے بہت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے لیکن چونکہ یہ درگاہ سڑک پر واقع تھی اور اس کے سبب ٹریفک کی روانی میں زبردست مشکلات کا سامنا تھا اس لیئے حکام نے اسے منہدم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وڈودرہ میونسپل کارپوریشن نے پچھلے پندرہ دنوں سے ناجائز تعمیرات کے خلاف مہم چلا رکھی ہے اور اس کے تحت پولیس غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہر عمارت، مندر یہاں تک کہ سرکاری عمارتوں کو بھی منہدم کر رہی ہے۔ اس دوران داخلہ سیکرٹری وی کے دگل نےگجرات کے چیف سیکرٹری سے بڑودہ کی صورتحال کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ مسٹر دگل نے گجرات حکومت سے کہا ہے کہ صورتحال کو پوری طرح قابو رکھنے کے لیئے نیم فوجی دستوں کو تیار رہنے کا حکم دیں۔ | اسی بارے میں گجرات فسادات: قبریں، عدالتی حکم20 April, 2006 | انڈیا علیگڑھ فسادات: یو پی میں ریڈ الرٹ07 April, 2006 | انڈیا بش دورہ: لکھنؤ فسادات، چار ہلاک03 March, 2006 | انڈیا بھاگلپور فسادات کی تحقیقات کا حکم24 February, 2006 | انڈیا آسام:ہندو مسلم کشیدگی، 7 زخمی04 September, 2005 | انڈیا گجرات فسادات: کتنے ہلاک ہوئے؟11 May, 2005 | انڈیا ہولی فسادات، 2 شہروں میں کرفیو27 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||