بھاگلپور فسادات کی تحقیقات کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کی این ڈی اے حکومت نے بھاگلپور کے مسلم مخالف فسادات کی از سر نو تفتیش کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ بہار کے ضلع بھاگلپور کے فرقہ وارنہ فسادات میں ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے جس میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ریاستی کابینہ نے جو ایک رکنی کمیشن بنانےکا فیصلہ کیا ہے اس کی قیادت ہائی کورٹ کے ایک سبکدوش جج کریں گے۔ حکومت نے کمیشن سے چھ ماہ کے اندو رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے یہ کمیشن ان ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش کرےگا جو ثبوت ہونے کے باوجود آزاد ہیں۔ کمیشن اس وقت کے لاپرواہ افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور فسادات سے متاثرہ افراد کی آباد کاری کے لیے بھی اپنی تجاویز پیش کرےگا۔ بھاگلپور فسادات کی یہ دوسری عدالتی تحقیق ہوگی۔ اس سے قبل ریاست کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو نے بھی عدالتی انکوائری کا حکم دیا تھا۔ جسٹس آر این پرساد کی قیادت میں اس کمیشن نے اپنی رپورٹ بھی پیش کی تھی لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ این ڈی اے محاذ اکثر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ اس معاملے میں لالو پرساد یادو کی حکومت نے سختی سے کارروائی نہیں کی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل یونائٹیڈ نے نتیش کمار حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ کانگریس اور لالو پرساد یادو کی جماعت نے اسے سیاسی شعبدہ بازی قرار دیا ہے۔ سن 1989 میں بہار کے ضلع بھاگلپور میں فسادات کے وقت ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی اور ستیہ نارائن سنہا وزیراعلی تھے۔ ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ | اسی بارے میں گجرات فسادات: سرکاری وکیل مقرر16 August, 2004 | انڈیا گجرات:11 افراد کو عمر قید14 December, 2005 | انڈیا وزیراعلیٰ سے پوچھ گچھ کا اختیار22 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||