گجرات کی صورتحال مزید خراب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کے روز گجرات کے شہر بڑودہ میں تشدد کا سلسلہ جاری رہا ۔ ایک مشتعل ہجوم نے پانی گیٹ علاقہ میں دو فیکٹریوں کو آگ لگا دی اور کرفیو کے باوجود کئی علاقوں سے پتھراؤ کی خبریں ملی ہیں۔ ریاست کے وزیر داخلہ امت شاہ اور پولیس کے سربراہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیۓ بڑودہ پہنچ گۓ ہیں۔ گجرات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر مرکزی حکومت نے نیم فوجی دستوں کے پانچ سو جوان گجرات روانہ کیے ہیں۔ وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی سے فون پر بات کی ہے اور صورتحال کوقابو میں کرنے کے لیۓ ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ منگل رات اور بدھ کی صبح تشدد کی وارداتیں جاری رہیں۔ فساد زدہ علاقوں میں ہجوم نے کئی مقامات پر مکانوں اور دکانوں پر حملے کیۓ اور پولیس سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ بڑودہ میں تشدد پیر کے روز اس وقت پھوٹ پڑا تھا جب میونسپل کارپریشن نے ناجائز تعمیرات کے خلاف مہم کے دوران دو سو سال سے بھی زیادہ پرانی ایک درگاہ کو منہدم کر دیا۔ یہ درگاہ سڑ ک کے درمیان میں واقع تھی اور اس کی ملکیت کا کوئی کاغذات نہیں تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ عمارت ناجائز تھی۔ میونسپیلٹی نے صفائی مہم کے دوران کئی ہندو مندروں کو بھی منہدم کیا ہے۔ داخلہ سیکریٹری وی کے دگل کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف امن قانون کا نہیں رہا بلکہ اب یہ فرقہ ورانہ فساد کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مرکزی حکومت نے گجرات حکومت سے کہا ہے کہ وہ کسی کو بھی اشتعال انگیز تقریریں کرنے اور بیانات دینے کی اجازت نہ دے۔ | اسی بارے میں وڈودرہ: ایک شخص کو زندہ جلا دیا گیا03 May, 2006 | انڈیا پولیس فائرنگ سے چار ہلاک 01 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||