گجرات فسادات: راز کھولنے پر کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست گجرات میں ’مسلمانوں کو نشانہ بنانے‘ کے حکومتی احکامات کو افشا کرنے پرایک اعلیٰ پولیس افسر کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ پولیس افسر شری کمار نے عدالت میں داخل کیے گئے ایک بیان حلفی میں کہا ہے کہ گجرات کی حکومت نے ان کی ترقی اس لیے روک دی ہے کیونکہ انہوں نے گجرات میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے موقع پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے حکومتی احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس افسر کے مطابق ان کو نریندرا مودی کی حکومت کے اہلکاروں نے ’مسلمانوں کو نشانہ‘ بنانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ گجرات حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ریاستی حکومت نے 2002 میں گجرات میں تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس شری کمار کو خفیہ معلومات کو افشا کرنے کے الزام میں نوٹس جاری کیا ہے۔ گجرات پولیس کے ایک سینئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شری کمار کو جاری ہونے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ تیس دن میں اپنا جواب داخل کرے۔ شری کمار نے ایک حلف نامے میں الزام لگایا ہے کہ ان کو مودی حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے احکامات جاری کیے تھے کہ وہ کانگریس کے صدر شنکرسن واہگلہ اور وزیر ہیرن پانڈے کے ٹیلیفون ٹیپ کریں۔ پولیس افسر شری کمار کے حلف نامے میں 2002 میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے بارے نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ان فسادات میں انسٹھ ہندو اور ایک ہزار مسلمان ہلاک ہو گئے تھے۔ نریندر مودی کی حکومت پر الزامات لگتے رہے ہیں کہ اس نے مسلمانوں کو ہندو اکثریت سے بچانے کے اقدامات نہیں کیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||