دہلی نصابی کتابیں بدل دے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری سکولوں کے نصاب میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہے کیونکہ ان میں بنیاد پرستی کی بہت تعلیم دی گئی ہے۔ انگریزی، سائنس اور تاریخ کی ان کتابوں کو بدل دیا جائے گا جن کو ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے نصاب کا حصہ بنایا تھا۔ ریاست کی وزیرِ اعلیٰ شیلا ڈکشٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ نصاب میں شامل کتابوں میں بچوں کو قوم پرست ہندوں نظریے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی کتابیں تاریخ کو مسخ نہیں کریں گی بلکہ بھارت کی سیکیولر روایت کا پرچار کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی کتابیں تاریخی حقائق کے حوالے سے بہت ٹھوس ہیں اور ان کو اگر پرائیویٹ سکول بھی چاہیں تو استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کی اس پالیسی پر تنقید بھی جا رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب بھی کوئی نئی حکومت آئے نصابی کتابوں کو تبدیل کر دیا جائے جس کا طلباء پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||