BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 July, 2006, 09:49 GMT 14:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیدیوں پر تشدد ’عام سی بات‘ تھی
 تشدد
ابوغریب کی تصاویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ابو غریب جیل میں غیر انسانی تشدد کے واقعات سامنے آنے کے بعد بھی عراق میں امریکی حراست میں قیدیوں پر تشدد کی اجازت تھی اور یہ ایک معمول کی بات تھی۔

ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 2003 سے 2005 کے دوران قیدیوں کو نہ صرف مارا پیٹا جاتا تھا بلکہ انہیں نیند سے محروم رکھنے کے علاوہ دیگر تکلیفیں بھی دی جاتی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق اس تشدد کے بارے میں جن فوجیوں نے شکایت کرنے کی کوشش بھی کی تو ان کی درخواست نظر انداز کر دی گئی۔ تاہم امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ بارہ معاملات پر نظرِ ثانی کے باوجود کسی ایسی پالیسی کے نفاد کا پتہ نہیں چلا جو تشدد کو فروغ دیتی ہو۔

پینٹاگون کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل مارک بیلاسٹروس نے رائٹرز کو بتایا کہ’محکمۂ دفاع کی حراست میں موجود افراد سے ہمیشہ انسانی رویہ اختیار کیا جاتا ہے‘۔

یہ اب واضح ہے کہ عراق میں غیر انسانی سلوک کے ذمہ دار اعلٰی افسران تھے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان کا محاسبہ کیا جائے۔
جان سفٹن

ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مصنف جان سفٹن کا کہنا ہے کہ سابق امریکی فوجیوں کے بیانات سے محکمۂ دفاع کے بیان کی تردید ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ بیانات امریکی حکومت کے اِن دعوؤں کی تردید کرتے ہیں کہ عراق میں تشدد کے واقعات اِکا دّکا اور بلا اجازت تھے‘۔

یاد رہے کہ سنہ 2004 میں عراق کی ابوغریب جیل میں امریکی فوجیوں کی جانب سے قیدیوں کی تذلیل اور ان پر تشدد کی تصاویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس سلسلے میں تاحال گیارہ امریکی فوجیوں کو سزا سنائی جا چکی ہے تاہم ان میں کوئی سینیئر افسر شامل نہیں ہے۔

عراقی قیدیوں کو کتوں سے ڈرایا جاتا

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں بغداد ائر پورٹ پر واقع حراستی مرکز کیمپ نامہ، موصل ائر پورٹ اور شام کی سرحد کے نزدیک القائم کے فوجی اڈے میں واقع حراستی مراکز کے واقعات بیان کیئے گئے ہیں۔

سنہ 2004 میں موصل میں تعینات ایک تفیتشی افسر نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ اسے اور اس کے ساتھی تفتیشی افسران کو ان کے افسر نے کچھ قیدیوں سے غیر انسانی سلوک روا رکھنے کا حکم دیا۔اس افسر نے بتایا کہ کس طرح وہ کتوں کی مدد سے قیدیوں کو ڈراتے، انہیں گھٹنیوں چلواتے اورگھنٹوں تک انہیں ہاتھ پھیلائے کھڑا رہنے پر مجبور کیا جاتا۔

کیمپ نامہ کے ایک تفتیشی افسر کے مطابق قیدیوں سے غیر انسانی سلوک عام سی بات تھی اور تفتیش کی اجازت کے فارم پر کمانڈنگ افسران سے با آسانی دستخط کروائے جا سکتے تھے۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ’میں نے کبھی ایسی شیٹ نہیں دیکھی جس پر دستخط موجود نہ ہوں‘۔

 کتوں کی مدد سے قیدیوں کو ڈراتے، انہیں گھٹنیوں چلواتے اورگھنٹوں تک انہیں ہاتھ پھیلائے کھڑا رکھتے۔

رپورٹ میں ان فوجیوں کا ذکر بھی ہے جنہوں نے اس تشدد کے خلاف آواز اٹھائی مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق’ القائم کے نزدیک حراستی مرکز کے پولیس گارڈ نے جب ان واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تو اسے کہا گیا کہ’ تم ان معاملات پر توجہ نہ دو اور سب بھول جاؤ‘۔

ہیومن رائٹس واچ نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک غیرجانبدارانہ کمیشن بنایا جائے جو اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے۔ رپورٹ کے مصنف کا کہنا ہے کہ’ یہ اب واضح ہے کہ عراق میں غیر انسانی سلوک کے ذمہ دار اعلٰی افسران تھے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان کا محاسبہ کیا جائے‘۔

اسی بارے میں
ابو غریب کی نئی تصاویر
15 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد