ابو غریب جیل بند کرنے کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک امریکی فوجی ترجمان نے کہا کہ بغداد میں قائم ابو غریب کو تین ماہ کے اندر بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس جیل میں قید چار ہزار پانچ سو قیدیوں کو عراق میں دوسرے جیلوں میں منتقل کر دیا جائےگا۔ ابو غریب جیل صدام حسین کے دورے میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے لیے بدنام تھا لیکن دو ہزار تین میں امریکی فوج کے عراقی قیدیوں پر تشدد کی تصاویر سامنے آنے کے بعد یہ عالمی طور پر بدنام ہو گیا۔ برطانوی خبررساں ادارِے رائٹرز نے لیفٹینٹ کرنل کیر کیون کیری کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ابو غریب جیل میں کیئے جانے والے تمام آپریشنز کو نئے کیمپ کوپر کے مکمل ہوجانے پر وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تاریخوں کا تعین نہیں کیا گیا لیکن ابو غریب جیل کو دو سے تین ماہ کے اندر بند کر دیا جائے گا۔ امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل بیری جانسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ابو غریب جیل کو بند کرنے کا منصوبہ دو سال پرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم جیل کو منتقل کرنے کی تاریخوں کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ کیمپ کوپر ایک نیا قید خانہ ہے جو بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب امریکی فوجی اڈے پر بنایا جا رہا ہے۔ کیمپ کوپر میں اس وقت صدام حسین سمیت ایک سو ستائیس انتہائی مطلوب افراد کو رکھا گیا ہے۔ کرنل کیری نے بتایا کہ نیا جیل خاص طور پر بنایا گیا ہے اور اس میں قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ابوغریب جیل اور اس کی پرانی بیرکس کو عراق حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس وقت عراق میں ساڑھے چودہ ہزار افراد امریکی فوج کی قید میں ہیں۔ ان کو چار مختلف قید خانوں میں رکھا گیا ہے البتہ آدھے سے زیادہ کیمپ بوکا میں قید ہیں۔ | اسی بارے میں ابو غریب، خاتون فوجی مجرم 17 May, 2005 | صفحۂ اول ابو غریب، خاتون فوجی کو سزا 18 May, 2005 | صفحۂ اول امریکی فوجیوں پر مارپیٹ کا الزام16 July, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||