ابو غریب تصاویر پر امریکی ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ آسٹریلوی ٹیلی ویژن چینل کو عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ مظالم کی نئی تصاویر نشر نہیں کرنی چاہئیں تھیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ان تصاویر سے ’اشتعال بڑھے گا اور غیر ضروری پرتشدد کارروائیاں سامنے آسکتی ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بغداد کی جیل میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف پہلے ہی کارروائی کی جاچکی ہے۔ آسٹریلوی چینل نے قیدیوں کے ساتھ 2003 میں زیادتی کی وہ تصاویر جاری کی ہیں جو پہلے منظر عام پر نہیں آئیں۔ یہ دو سال قبل منظر عام پر آنے والی ابو غریب میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی تصاویر سے کہیں زیادہ خوفناک اور خونریز ہیں۔ ان تصاویر میں تشدد، قتل اور جنسی تذلیل کے مناظر شامل ہیں۔ ان میں عراقی قیدیوں کی کچھ ایسی خونریز تصاویر ہیں جس میں یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ یہ بے ہوش ہیں یا مر چکے ہیں۔ ایس بی ایس ٹی وی نیٹ ورک کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ قیدی جیل میں ایک بغاوت کے دوران اس وقت مارے گئے تھے جب امریکی فوجیوں کے پاس ’ربر بلٹس‘ ختم ہو گئیں اور انہوں نے دوسرا اسلحہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ٹی وی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تصاویر اسی ذریعے سے ملی ہیں جو دو سال قبل کی تصاویر کا ذریعہ تھا۔ آسٹریلوی ٹی وی کے مائیک کیرے کا کہنا ہے ’ہمیں یہ تصاویر ملیں تو احساس ہوا کہ ہمارے پاس ایک ذمہ داری ہے کہ انہیں نشر کیا جائے‘۔ نیٹ ورک نے یہ تصاویر اپنی ویب سائٹ پر بھی شائع کی ہیں۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے قانونی مشیر جان بیلنگر نے کہا ہے کہ حکومت کا خیال ہے کہ اگر یہ تصاویر جاری نہ کی جاتیں تو بہتر تھا۔ اس لیے نہیں کہ اس سے کچھ چھپانا چاہتے ہیں بلکہ اس لیے کہ یہ تصاویر میں نظر آنے والے افراد کی پرائیویسی پر حملہ ہے‘۔ پینٹاگون کے ایک افسر نے تصدیق کی ہے کہ یہ تصاویر اصلی ہیں۔ یہ تصاویر ان شواہد کا حصہ ہیں جو ابو غریب میں بدسلوکی کے واقعات کی تفتیش کرنے والے امریکی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔ ان شواہد میں سو سے زیاد فوٹو اور چار ویڈیو ٹیپ شامل ہیں۔ یہ تصاویر امریکہ میں جاری ایک مقدمے میں شامل تھیں۔ ستمبر میں نیو یارک کے ایک جج نے فیصلہ دیا کہ ان تصاویر کی اشاعت کو آزادی اظہار کے قانون کے تحت شائع ہونے کی اجازت ہونی چاہیے۔ جج نے امریکی حکومت کی اس دلیل کو رد کردیا کہ انتصاویر سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکیں گے۔ یہ تصاویر ایک ایسے وقت پر نشر کی گئی ہیں جب توہین آمیز کارٹونوں کا تنازعہ ابھی تازہ ہے اور اس سے مغرب اور اسلامی ممالک کے درمیان خلیج بھی بڑھ گئی ہے۔ حال ہی میں عراق میں مظاہرین کے ساتھ برطانوی فوجیوں کی بدسلوکی کی وڈیو جاری کی گئی ہے۔ اب یہ نئی تصاویر امریکی نیٹ ورکس اور عربی چینلز الجزیرہ اور العربیہ پر بھی جاری کردی گئی ہیں۔ |
اسی بارے میں قیدیوں پر تشدد کے نئے شواہد15 December, 2004 | آس پاس بدسلوکی پر امریکی فوجی کو سزا21 October, 2004 | آس پاس ’اوپر سے حکم نہیں تھا‘15 June, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||