افغانستان: پولینڈ فوجی بھیجنے پر تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی فورس کے لیئے اگلے سال اپنے ایک ہزار فوجی بھیجے گا۔ اس وقت افغانستان میں پولینڈ کے ایک سو فوجی موجود ہیں۔ تاہم اعلان کردہ حالیہ فوجی اگلے سال فروری تک افغانستان نہیں جا سکیں گے۔ بدھ کو بین الاقوامی امن فورس کی مزید فوجی بھیجنے سے متعلق ایک درخواست پر غور کے لیئے بیلجئم میں نیٹو کے رکن ممالک کا ایک اجلاس ہوا تھا۔ بین الاقوامی امن فورس نے افغانستان کے شمالی حصے میں جاری فوجی کارروائیوں کے لیئے مزید پچیس سو فوجی بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ ملک کے شمالی حصے میں طالبان مزاحمت کاروں سے جاری گھمسان کی لڑائی میں نیٹو کو کافی جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس وقت افغانستان میں اٹھارہ ہزار پانچ سو کے قریب غیر ملکی فوجی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی فوج بھی تقریبًااتنی ہی تعداد میں ہیں۔ نیٹو فوجیوں کی نصف تعداد ملک کے جنوبی حصے میں کینیڈا اور برطانیہ کے فوجیوں کی مدد کے لیئے وہاں موجود ہے جن کے پاس اس وقت امریکی جنگی طیارے اور سپیشل فورسز بھی ہیں۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو کمانڈروں نے فوج کی ایک بٹالین کی درخواست کی تھی تاکہ ان فوجیوں کو طالبان کے ساتھ جاری شدید لڑائی کے دوران حسب ضرورت کمک کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ شمالی حصے میں موجود فوجی کمانڈر فوری طور پر فوجیوں کی تعیناتی چاہتے ہیں تاکہ علاقے میں جاری کارروائیوں میں تعطل نہ آئے کیونکہ ان کے بقول اس خطے میں لڑائی مزید طول پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ پولینڈ کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے فوجیوں کے افغانستان بھیجے جانے کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ ’ ہم جانتے ہیں یہ انتہائی خطرناک کام ہوگا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’پولینڈ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ نیٹو فورس کو افغانستان میں مزید متحرک ہونے کی ضروت ہے اور اسی وجہ سے ہم نے فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلے کیا ہے‘۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے فوجیوں کے افغانستان پہنچنے تک نیٹو ممالک پر مزید فوجی بھیجنے سے متعلق دباؤ برقرار رہے گا۔ نامہ نگار کے مطابق بین الاقوامی امن فوج کو طالبان کے خلاف اپنی لڑائی موسم سرما کے آغاز سے قبل جیتنی ضروری ہے کیونکہ سردیوں میں لڑائی کا عمل سست پڑ جائے گا لیکن لڑائی جیتنے کے لیئے اسے فوجی قوت میں اضافے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر طالبان کے خلاف لڑائی مشکل تر ہو جائے گی۔ | اسی بارے میں ’جنوبی افغانستان میں کمک بھیجیں‘07 September, 2006 | آس پاس افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘13 September, 2006 | آس پاس 92 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ11 September, 2006 | آس پاس 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس چالیس مشتبہ طالبان ہلاک: نیٹو09 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||