BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 September, 2006, 23:33 GMT 04:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی ایس آئی کو ختم کریں: رپورٹ
رپورٹ کو جنرل مشرف پر براہ راست تنقید سمجھا جارہا ہے
رپورٹ کو جنرل مشرف پر براہ راست تنقید سمجھا جارہا ہے
پاکستانی صدر پرویز مشرف نے برطانوی وزارت دفاع کی اس تحقیقی رپورٹ پر شدید تنقید کی ہے جس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو ختم کرنےکی بات کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ برطانوی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ایک سینیئر افسر نے وزارت دفاع کے مشاورتی ادارے کے لیے تحریر کی ہے۔ اس کے اقتباسات اور تجاویز بدھ کی شب بی بی سی کے ٹیلی ویژن پروگرام ’نیوز نائٹ‘ پر نشر کی گئیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ’القاعدہ کی دہشت گردی کی حمایت‘ کررہی ہے اور صدر پرویز مشرف ایک ایسے ملک کی سربراہی کررہے ہیں جو کہ ’انتشار کے دہانے پر‘ کھڑا ہے۔

تاہم برطانوی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ رپورٹ وزارت یا برطانوی حکومت کا سرکاری موقف نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں آئی ایس آئی کو ختم کرنے کی تجویز پر پرویز مشرف نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

جنرل پرویز مشرف نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ کو بتایا کہ برطانیہ ’آئی ایس آئی کو ختم کرنے سے قبل وزارت دفاع کو ختم‘ کرے۔ پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی ایک ’ڈِسپلِنڈ فورس‘ یعنی نظم و ضبط کا پابند ادارہ ہے۔

رپورٹ کی چار نکاتی تجاویز
 رپورٹ کی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ برطانوی اور پاکستانی افواج کے درمیان جو ’روابط‘ ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے جنرل مشرف پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اقتدار سے ’دستبردار‘ ہوجائیں، آزادانہ انتخابات قبول کریں، فوج کو سویلین لائف سے واپس بیرکوں میں بھیجیں اور آئی ایس آئی کو ختم کریں۔
جنرل مشرف نے کہا کہ یہ معاملہ وہ دو ایک دن میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ملاقات میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے سرد جنگ کے خاتمے میں آئی ایس آئی کے کردار کی تعریف کی۔

گزشتہ عشروں میں آئی ایس آئی کے کردار کو سراہتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا: ’ستائیس برسوں تک وہ (آئی ایس آئی) وہی کرتی رہی ہے جو حکومت اسے بتاتی رہی ہے، اس نے دنیا کے لیے سرد جنگ جیتی، اگر آئی ایس آئی نے نمایاں کام نہیں کیا ہوتا تو سوویت یونین کا زوال نہیں ہوتا ،۔۔۔ القاعدہ کی کمر نہ ٹوٹتی، ۔۔۔ اگر آئی ایس آئی بہترین کام نہیں کرررہی ہوتی تو (القاعدہ کے) 680 افراد نہیں پکڑے گئے ہوتے۔۔۔۔‘

برطانوی وزارت دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان مزاحمت، لندن کی زیرزمین ٹرینوں میں ہونے والے سات جولائی کے خودکش بم دھماکے اور عراق میں القاعدہ کی دہشت گردی میں آئ ایس آئی کا کردار شامل ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستانی فوج کے دہشت گردی کے خلاف ’دوہرے کردار‘ اور متحدہ مجلس عمل کی ’حمایت‘ اور ’طالبان کی بلاواسطہ حمایت‘ کی بات کی گئی ہے۔

لندن دھماکوں سے پاکستان کے تعلق پر صدر پرویز مشرف نے کہا کہ آئی ایس آئی کا کردار ستائیس برسوں کے دوران بہتر رہا ہے اور صرف دو مہینے کے لیے لندن کے دھماکوں کے خودکش بمباروں کا پاکستان سفر کرنا اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کو اپنی ناکامی پر توجہ دینی چاہیے۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں سیاسی ’استحکام‘ کی خاطر جنرل مشرف کی فوجی حکومت کی حمایت کی برطانوی پالیسی کو ’غلط‘ بتایا گیا ہے۔

آئی ایس آئی کا دفاع
 ستائیس برسوں تک وہ (آئی ایس آئی) وہی کرتی رہی ہے جو حکومت اسے بتاتی رہی ہے، اس نے دنیا کے لیے سرد جنگ جیتی، اگر آئی ایس آئی نے نمایاں کام نہیں کیا ہوتا تو سوویت یونین کا زوال نہیں ہوتا ،۔۔۔ القاعدہ کی کمر نہ ٹوٹتی، ۔۔۔ اگر آئی ایس آئی بہترین کام نہیں کرررہی ہوتی تو (القاعدہ کے) 680 افراد نہیں پکڑے گئے ہوتے۔
رپورٹ کی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ برطانوی اور پاکستانی افواج کے درمیان جو ’روابط‘ ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے جنرل مشرف پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اقتدار سے ’دستبردار‘ ہوجائیں، آزادانہ انتخابات قبول کریں، فوج کو سویلین لائف سے واپس بیرکوں میں بھیجیں اور آئی ایس آئی کو ختم کریں۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی قیاس آرائی کی گئی ہے کہ اگر جنرل مشرف ان تجاویز کو قبول نہیں کرتے ہیں، تو ان پر ’دباو‘ کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل مشرف اس بات سے واقف ہیں کہ ان کے لیے وقت ختم ہورہا ہے، اور کسی نہ کسی وقت امریکہ اپنی فنڈِنگ واپس لے گا اور ممکن ہے کہ ان کا ’تحفظ‘ بھی جس پر امریکہ کو ایک اندازے کے مطابق ستر سے اسی ملین ڈالر ماہانہ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

نیوزنائٹ کے مطابق اس رپورٹ کے مصنف کا تعلق برطانوی انٹیلیجنس سے ہے۔ یہ رپورٹ برطانوی وزارت دفاع کی دفاعی اکیڈمی کے لیے تیار کی گئی ہے۔ بی بی سی نے سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے مصنف کا نام شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس رپورٹ میں دہشت گردی مخالف جنگ میں مغرب کی ناکامی کی بات کی گئی ہے۔ اس مطالعے کے لیے برطانوی وزارت دفاع کے محققین نے گزشتہ جون پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے انٹیلیجنس اور تعلیمی اداروں کے پروفیسروں سے دہشت گردی مخالف جنگ سے متعلق گفتگو کی۔ یہ رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے۔

افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
جنرل مشرف کا خطاب7/7 کےبعد کا پاکستان
ماضی کا بوجھ یا حال کی حقیقیت، خطاب پر تبصرہ
مشرفحکومت جائز یا ناجائز
مشرف حکومت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
واحد ادارہ
آئی ایس آئی، بھرتیوں کا بل سینٹ سےمنظور
ISI کا بے پناہ اختیار
بوڑھے برگیڈیئر کے خلاف ISI کا ایکشن
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
 آصف بالادی سندھ ۔ آصف بالادی
وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد