آئی ایس آئی کو ختم کریں: رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر پرویز مشرف نے برطانوی وزارت دفاع کی اس تحقیقی رپورٹ پر شدید تنقید کی ہے جس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو ختم کرنےکی بات کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ برطانوی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ایک سینیئر افسر نے وزارت دفاع کے مشاورتی ادارے کے لیے تحریر کی ہے۔ اس کے اقتباسات اور تجاویز بدھ کی شب بی بی سی کے ٹیلی ویژن پروگرام ’نیوز نائٹ‘ پر نشر کی گئیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ’القاعدہ کی دہشت گردی کی حمایت‘ کررہی ہے اور صدر پرویز مشرف ایک ایسے ملک کی سربراہی کررہے ہیں جو کہ ’انتشار کے دہانے پر‘ کھڑا ہے۔ تاہم برطانوی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ رپورٹ وزارت یا برطانوی حکومت کا سرکاری موقف نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں آئی ایس آئی کو ختم کرنے کی تجویز پر پرویز مشرف نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ کو بتایا کہ برطانیہ ’آئی ایس آئی کو ختم کرنے سے قبل وزارت دفاع کو ختم‘ کرے۔ پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی ایک ’ڈِسپلِنڈ فورس‘ یعنی نظم و ضبط کا پابند ادارہ ہے۔
گزشتہ عشروں میں آئی ایس آئی کے کردار کو سراہتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا: ’ستائیس برسوں تک وہ (آئی ایس آئی) وہی کرتی رہی ہے جو حکومت اسے بتاتی رہی ہے، اس نے دنیا کے لیے سرد جنگ جیتی، اگر آئی ایس آئی نے نمایاں کام نہیں کیا ہوتا تو سوویت یونین کا زوال نہیں ہوتا ،۔۔۔ القاعدہ کی کمر نہ ٹوٹتی، ۔۔۔ اگر آئی ایس آئی بہترین کام نہیں کرررہی ہوتی تو (القاعدہ کے) 680 افراد نہیں پکڑے گئے ہوتے۔۔۔۔‘ برطانوی وزارت دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان مزاحمت، لندن کی زیرزمین ٹرینوں میں ہونے والے سات جولائی کے خودکش بم دھماکے اور عراق میں القاعدہ کی دہشت گردی میں آئ ایس آئی کا کردار شامل ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستانی فوج کے دہشت گردی کے خلاف ’دوہرے کردار‘ اور متحدہ مجلس عمل کی ’حمایت‘ اور ’طالبان کی بلاواسطہ حمایت‘ کی بات کی گئی ہے۔ لندن دھماکوں سے پاکستان کے تعلق پر صدر پرویز مشرف نے کہا کہ آئی ایس آئی کا کردار ستائیس برسوں کے دوران بہتر رہا ہے اور صرف دو مہینے کے لیے لندن کے دھماکوں کے خودکش بمباروں کا پاکستان سفر کرنا اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کو اپنی ناکامی پر توجہ دینی چاہیے۔ اس رپورٹ میں پاکستان میں سیاسی ’استحکام‘ کی خاطر جنرل مشرف کی فوجی حکومت کی حمایت کی برطانوی پالیسی کو ’غلط‘ بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی قیاس آرائی کی گئی ہے کہ اگر جنرل مشرف ان تجاویز کو قبول نہیں کرتے ہیں، تو ان پر ’دباو‘ کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق جنرل مشرف اس بات سے واقف ہیں کہ ان کے لیے وقت ختم ہورہا ہے، اور کسی نہ کسی وقت امریکہ اپنی فنڈِنگ واپس لے گا اور ممکن ہے کہ ان کا ’تحفظ‘ بھی جس پر امریکہ کو ایک اندازے کے مطابق ستر سے اسی ملین ڈالر ماہانہ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ نیوزنائٹ کے مطابق اس رپورٹ کے مصنف کا تعلق برطانوی انٹیلیجنس سے ہے۔ یہ رپورٹ برطانوی وزارت دفاع کی دفاعی اکیڈمی کے لیے تیار کی گئی ہے۔ بی بی سی نے سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے مصنف کا نام شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس رپورٹ میں دہشت گردی مخالف جنگ میں مغرب کی ناکامی کی بات کی گئی ہے۔ اس مطالعے کے لیے برطانوی وزارت دفاع کے محققین نے گزشتہ جون پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے انٹیلیجنس اور تعلیمی اداروں کے پروفیسروں سے دہشت گردی مخالف جنگ سے متعلق گفتگو کی۔ یہ رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’امریکہ نےحملے کی دھمکی دی‘ 21 September, 2006 | پاکستان تین ’بمبار‘ پاکستان گئے تھے18 July, 2005 | پاکستان ’ملزم کے القاعدہ سے قریبی روابط‘ 15 August, 2006 | پاکستان وزیرستان: طالبان دفتر کھولیں گے 14 March, 2006 | پاکستان طالبان: امن معاہدے کا خیر مقدم05 September, 2006 | پاکستان ’سینکڑوں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں‘08 September, 2006 | پاکستان ’طالبان القاعدہ سے زیادہ خطرناک‘12 September, 2006 | پاکستان ’وزیرستان معاہدہ ملا عمر نے کرایا‘ 25 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||