نائن الیون: پاکستان میں بدلتی صورتحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے پانچ برس پہلے ہونے والا نائن الیون کا واقعہ یوں تو دنیا کے بیشتر ممالک پر اثر انداز ہوا لیکن اس نے پاکستان کے حالات بھی کافی حد تک بدل دیے۔ افغانستان میں القاعدہ کے رہنماؤں کی موجودگی اور پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے اس کا پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ نے اس کے کردار کا تعین صفِ اول میں کیا۔ افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقہ بھی عالمی شدت پسندوں کی آماجگاہ بنا رہا اور وہاں پہلی بار پاکستان فوج گئی۔ قبائلی علاقوں میں غیر متوقع فوجی کارروائی میں جہاں کئی جنگجو مارے گئے وہاں سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ بچے کھچے شدت پسندوں نے اپنی محفوظ آمجگاہ کو بچانے کے لیئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور حتیٰ کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف پر بھی دو بار ناکام مگر انتہائی خطر ناک جان لیوا حملے کیے۔ کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ فوجی صدر پر ہونے والے جان لیوا حملے حقیقی معنوں میں حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کی شدت پسندوں اور انہتا پسندوں کے بارے میں پالیسی تبدیل کرنے کا سبب بنے کیونکہ بیشتر شدت پسند گروپ سرد جنگ کے دوران سرکاری طور پر تشکیل دیے گئے تھے اور بعد میں کشمیر ہو یا افغانستان وہاں پاکستان کے مفادات کے لیئے ’مجاہدین‘ سونے کی چڑیا کے برابر تھے اور ان کی دیکھ بھال خفیہ ایجنسیوں کے ذمہ داری تھی۔ پاکستان میں موجود دس ہزار سے زائد دینی مدارس میں سے کئی سرفروش مجاہدین پیدا کرنے کی ’نرسری‘ کا کردار ادا کرتے رہے اور شاید یہی وجہ تھی کی پاکستان حکومت نے مدارس کے اصلاحات بھی شروع کیے۔ حکومت نے بیرونی امداد سے ماڈل مدارس کا قیام کیا اور بعض مدارس میں قرآن کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم بھی شروع کروائی۔ مدارس میں اصلاحات کا پروگرام تاحال اتنا تو کامیاب نہیں ہوسکا جتنی توقعات تھیں لیکن پھر بھی درست سمت میں ایک اہم قدم ثابت سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعہ سے پاکستان میں فوجی سربراہِ حکومت کو جہاں طول ملا وہاں ملک کی معیشت نے بھی بہت ترقی کی اور گزشتہ کئی دہائیوں میں شرح نمو میں اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے ہوا۔ پاکستان میں منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی روک تھام، سائبر کرائم اور وائٹ کالر کرائم کو روکنے سمیت مدارس اور منی چینجرز کے اندراج اور بینکوں کے سخت قوانین بھی بنے۔ پاکستان کے جوہری بم کے خالق ڈاکٹر قدیر خان کا جوہری بلیک مارکیٹ کا سکینڈل سامنے آنے کو بھی بعض ناقدین نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا دباؤ قرار دیتے ہیں لیکن حکومت اس کی نفی کرتی ہے۔ پاکستان میں گیارہ ستمبر کی پانچویں برسی کے موقع پر طالبان اور القائدہ کے حامی سمجھے جانے والے قبائلیوں سے حکومت نے سمجھوتہ کیا ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت حکومت متاثرہ افراد کو معاوضہ دے گی اور ان سے پکڑا گیا تمام سامان چاہے وہ گاڑیاں ہوں یا ہتھیار واپس کرے گی۔ حکومت اور قبائلیوں کے اس سمجھوتے پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ حکومت کے حامی کہتے ہیں کہ یہی درست قدم ہے جبکہ مخالفین کہتے ہیں کہ اس سے قبائلی اور وہاں موجود غیر ملکی شدت پسندوں کو منظم اور مضبوط ہونے کا موقع ملے گا۔ | اسی بارے میں دہشت گردی: تعاون کامعاوضہ 16 July, 2004 | پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد16 December, 2003 | پاکستان دہشت گردی کے خلاف معاہدہ15 June, 2005 | پاکستان دہشت گردی: ایک اور مہم کیوں؟16 July, 2005 | پاکستان نائن الیون کی یاد میں تقریبات شروع11 September, 2006 | آس پاس 9/11: سعودی عرب میں تبدیلی کا آغاز11 September, 2006 | آس پاس ’دہشت گردی کی وجوہات ختم کریں‘21 September, 2004 | پاکستان ’دہشت گردی کے کیمپ ابھی ہیں‘15 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||