BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 04:06 GMT 09:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نائن الیون: ایک منٹ کی خاموشی
صدر بش نے پھول چڑھانے کے بعد جھک کر ہلاک ہونے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا
امریکہ میں سابقہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام پر گیارہ ستمبر کے حملوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

آگ بجھانے والے عملے کے اراکین کے ساتھ امریکی صدر بش بھی ایک منٹ کی خاموشی کی اس تقریب میں شریک تھے۔ یہ خاموشی ٹھیک اسی وقت اختیار کی گئی جب پہلا جہاز شمالی ٹاور سے ٹکرایا تھا۔

اس موقع پر گھنٹیاں بجائی گئیں اور گروپ نے مل کر دعائیہ گیت گایا۔ ہلاک ہونے والے دو ہزار نو سو تہتر افراد میں سے ایک کی بیوی نے ایک دعائیہ گیت گایا۔ دوران تقریب نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ نے ایک نظم پڑھی۔ امریکی صدر بش پینسلوینیا اور واشٹنگن میں پینٹاگون کی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔

امریکہ پر پانچ سال پہلے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تقریبات شروع ہو گئی ہیں۔ان حملوں میں تقریباً تین ہزار لوگ مارے گئے تھے۔

تقریبات کا آغاز صدر بش نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ گراونڈ زیرو پر پھول چڑھانے سے شروع ہوا۔

اس سے قبل صدر بش نے امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کو پانچ سال مکمل ہونے کی تقریبات کا افتتاح کیا۔

صدر نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ بنائی جانے والی یادگار گراؤنڈ زیرو پر پھول چڑھائے۔

بعد میں صدر بش نے ایک قریبی گرجا گھر میں یادگاری سروس میں شرکت کی۔
اس موقع پر امریکی صدر بش نے کہا کہ وہ عہد کرتے ہیں ہیں کہ وہ پانچ سال پہلے دہشت گردی کے حملوں سے حاصل ہونے والے سبق کو یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن اب بھی موجود ہے اور وہ امریکہ کو نقصان پہنچانے کاکوئی موقع ضائع نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کا دن بہت سارے لوگوں کے لیئے دکھ کا پیغام لے کر آتا ہے۔

مظاہرین دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

صدر بش جب گراونڈ زیرو گیارہ ستمبر کو مرنے والوں کی یاد میں پھول چڑھا رہے تھے، اسی وقت تھوڑی دور جنگ مخالف مظاہرین امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

گیارہ ستمبر کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پانچ سال بعد امریکہ اب پہلے سے زیادہ محفوظ جگہ ہے لیکن اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔

گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ تقریبات پیر کو بھی جاری رہیں گی اور ان میں گیارہ ستمبر کو ہلاک ہونے والوں کے نام پڑھ کر سنائے جائیں گے۔

یہ تقریبات ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہیں جب نومبر کو ہونے والے کانگریس کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے بش انتظامیہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔

بش انتظامیہ ان تقریبات کے پیش نظر دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق اپنی پالیسی کا دفاع کرتی رہی ہے جبکہ حزب اختلاف بش انتظامیہ پر الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ ان تقریبات کو اپنے سیاسی مفاد کے لیئے استعمال کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
نائيں ون ون امریکہ اور پاکستانی
11 September, 2006 | قلم اور کالم
9/11 اور نیویارک کے مسلمان
10 September, 2006 | قلم اور کالم
نیویارک: ایک شہر جو بدل گیا
11 September, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد