نائيں ون ون امریکہ اور پاکستانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک او ر نیوجرسی کے بیچ سورج کے ہڈسن ندی میں ڈوبتے ہی اس بند ہوتی دکانوں اور گھروں کی کواڑوں والے برک چرچ شہر ميں کسی نووارد کیلیے خوف بقول شخصے سانپ کی طرح ہولے ہولے رینگنے لگتاہے یا یوں کہہ لیجیئے ایک سراسیمگی کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ پارک ہوتی ہوئی پرانی بیوک، شیورلیٹ اور کیڈلک کاریں اور ان میں سے کچھ کی طرف بڑھتی ہوئی طوائفیں ان کاروں میں بیٹھے ہوئے سفید سفاری سوٹوں اور گلے میں بھاری چاندی کی زنجیروں اور لاکٹوں، ھاتھ میں سونے کی انگوٹھیوں اور سونے کے دانت والے انکے دلال اور کچھ میں گاہک ’اونگھتے بکھاری‘ اپنی ’چال ڈھال‘ سے لگتے ہسلریا مرد طوائف ’گانجہ بیچنے والے‘ پولیس کے بھونپو، ریل کا ہارن اور مغرب کی آذان: یہ نیو جرسی کے مشرقی اورنج کا ایک شہر ہے جہاں اکثریت افریقی امریکی مسلمانوں کی ہے۔ ہوا یوں تھا کہ امریکی حکومت نے افغانستان میں روسی مداخلت کے دنوں ميں امریکہ کے بہت سے غریب سیاہ فام مسلمان علاقوں ميں جگہ جگہ پوسٹر بانٹے اور چسپاں کیے تھے جن میں برادر اسلامی ملک افغانستان میں لادین کمیونسٹ روس یا سوویت یونین کی یلغار کیخلاف مقدس جہاد میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی ہوتی تھی۔ اور اس اپیل سے متاثر ہوکر نہ صرف کئی نوجوان سیاہ فام مسلمان سوویت یونین کیخلاف جہاد کرنے گئے تھے بلکہ کئی غیر مسلم نوجوان بھی شوق اور مہم جوئی میں انکے ساتھ ہو لیے تھے۔ ایسے جانیوالے بچے ’افغان جھاد‘ سے قبول اسلام کر کے امریکہ اپنے گھروں کو لوٹے تھے اور انہی میں سے بہت سے ’امریکی طالبان‘ کہلائے۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاوروں سے ٹکراتے طیارے افغانستان میں امریکی پالیسی کی گھر لوٹتی ناکامی تھی یا ’اسلامی فسطائیت پسندی‘، اسے کوئی جو بھی کہے لیکن وہ نہتی انسانی آبادی پر بہت بڑا دہشتگردانہ حملہ تھا جو شاید انسانی یادداشت اور تاریخ سے کبھی نہ مٹ سکے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں تو عمل دخل ان تین ہزار لوگوں میں سے شاید کسی کا شاذ ونادر ہی ہوگا جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشتگردانہ حملے میں مارے گئے۔ ’وہ امییگریشن دستاویزات نہ ہونے کی بنا پر سب کچھ ہوتے ہوئے اپنے نام گھر نہیں خرید سکتے اور نہ ہی ’گرین کارڈ‘ خرید سکتے ہیں‘، ایک امریکی اخبار نے لکھا۔ ’حملے میں تو عرب ملوث تھے لیکن ان پر اتنی پکڑ دھکڑ نہیں ہوئی جتنی ہم پاکستانیوں پر ہوئی‘ مجھ سے نیویارک کے علاقے جیکسن ہائٹس میں جاوید بش نامی ایک پاکستانی وڈیو کیمرا مین نے پوچھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ لاہور کے ان جاوید متین کو نیویارک کے پاکستانی جاوید بش کیوں کہتے ہیں۔ مجھے تو انکی شکل کافی حد تک جارج بش کے جوانی کے فوٹو سے ملتی جلتی لگی۔ ’کیا گیارہ ستمبر کی دہشتگردی کا اثر پاکستانیوں کی زندگیوں پر پڑا ہے؟‘ میں نے اپنے دوست نصر آرائيں سے نیوجرسی میں پوچھا تھا۔ ’نیویارک میں پورا کونی آئیلینڈ ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے‘، نصر نے کہا تھا۔ نیویارک سے شائع ہونیوالے ہفت روزہ ’ولیج وائس‘ نے لکھا: ’گیارہ ستمبر کی صبح ڈونلڈ رمسفیلڈ آرلنگٹن کے قومی قبرستان میں جب پھولوں کی چادریں چڑھا رہے ہونگے اور نیویارک کے گورنر پٹاکی اور مئیر بلومبرگ گراؤنڈ زیرو پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں دہشتگردی میں ہلاک ہونیوالوں کی یاد منارہے ہونگے تو کونی آئیلینڈ بھی گيارہ سمتبر کی دہشتگردی میں ہلاک ہونیوالے تین پاکستانیوں کے یاد اور غم میں ڈوبا ہوا ہوگا‘۔ کچھ عرصہ قبل اسی کونی آئيلینڈ میں ایک پاکستانی شوکت علی اور ایک خاتون نے مجھے گیارہ ستمبر کے پس منظر میں اپنی بپتائيں کچھ یوں سنائی تھی جنہیں میں نے ریکارڈ کیا تھا۔ شوکت علی کی پاکستان میں روڈ حادثے میں آنکھیں متاثر ہوگئي تھیں اور وہ بقول انکے، علاج کیلیے امریکہ آئےتھے۔ ’میں نے یہاں سے علاج شروع کیا اپنا۔ تو اسی طرح میرا سلسلہ چلتا آرہا تھا۔ میں اپنے کام کرنے کے اتنا قابل نہیں تھا کہ نائین الیون کا واقعہ ہوا۔ نائین الیون کا واقعہ ہوا تو ان لوگوں نے ہمارے ہاں یہاں کونی آئیلینڈ میں ہمارے گھروں پرچھاپے مارنا شروع کردیئے۔‘ ’کچھ ٹائم گزرا کہ انہوں نے پروگرام بنایا کہ جس آدمی کے پاس ویزا نہیں ہے، جسکا ٹائیم اوور ہوچکا ہے وہ یہاں آجائیں وہ اپنا رجسٹریشن کروائيں۔ میں بلائینڈ تھا اس حالت میں میں چلا گیا۔ میں نے سوچا یہ گورنمنٹ کا اعلان ہے تو ہو سکتا ہے اس میں کوئی بہتری ہو۔ میں وہاں گیا تو انہوں نے جناب عالی میری رجسٹریشن کی اور انہوں نے مجھے پریشانیوں میں ہارڈ ٹائیم دیا- چار پانچ میری پییشیاں ہونے کے بعد انہون نے مجھے والینٹیئرڈ ڈپارچر کردیا۔ میں نے بڑی ریکوئیسٹ کی جج کیساتھ دیکھو میں پاکستان سے آیا ہوں، میں ایروناٹیکل انجینئیر ہوں۔ میں پاکستان سے آیا ہوں اپنے علاج کیلیے۔ مجھے اتنا کردو کہ کم از کم میں اپنا علاج مکمل کروالوں۔ لیکن اس نے کوئی بھی نہ سنی۔ اسی دوران ہمارے یہاں سے جتنے پاکستانی لوگ تھے- وہ گھبرا کے بھاگ رہے تھے۔ کوئی کینیڈا جارہا تھا تو کوئی پاکستان جارہا تھا۔ ہماری کمیونٹی کے لیڈروں نے لوگوں کیلیے پریشانیاں پیدا کی- یعنی لوگوں کو ہمت دلانے کے بجائے لوگوں کی ہمت توڑی۔ لوگ گھبرا چکے تھے۔ کیونکہ لوگوں کا یقین اٹھ چکا تھا- تو آج یہ پوزیشن ہے کہ میرے جیسے آدمی کو جسکو نظر نہیں آتا- میں ایک ٹیکنیکل مکینک ہوں اسکے باوجود میں نے ان سے رکیسٹ کی انہوں نے مجھے والینٹيئرڈ ڈپارچر میں ڈال دیا۔ میرا کیس فيڈرل گورنمنٹ کے پاس ہے۔ جو نائن الیون سے پہلے حکومت تھی بہت اچھا ٹائم گزررہا تھا۔ ہر آدمی خوش باش اور ہر آدمی آزادی سے گھومتا تھا۔ ان لوگوں سے پولیس سے، ایف بی آئی سے اچھے طریقے سے باتیں کرتا تھا۔ نائن الیون کے بعد انہوں نے خاص طور مسلمانوں کو اور مسلمانوں کے علاوہ پاکستانیوں کو اتنا خوف و ہراس میں ڈال دیا ہےکہ جب ہم باہر آتے ہیں تو سوچتے ہیں یا اللہ کوئی ایسا سلسلہ بن جائے جو ہم بھی اپنی عزت لیے پھررہے ہیں کہ ہم تھانے میں نہ جاکے بیٹھیں کہ کسی شک کی بنا پر بھی یہ نہ ہمیں پکڑ لیں۔ یہ فرق اس لیے ڈالا گیا ہے کہ خدا جانے نائن الیون کیا ہوا کس نے کیا ،کیسے ہوا یہ ان گورنمنٹ کو پتہ ہے لیکن یہ لوگ شک جو ہے وہ پاکنستانی لوگوں پر کررہے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی لوگ کوئی دہشت گرد یا کوئی ایسا نہیں ہے جس میں امریکہ کو نقصان دیا ہو ذاتی۔‘ گیارہ ستمبر کے واقعات کو پانچ سال پورے ہوئے امریکہ میں پاکستانیوں سمیت تمام رہنے والے اور شہری مسلسل خوف اور دباؤ کا شکار ہیں۔ اسامہ بن لادن اور انکی صف کے القاعدہ لیڈرز کا آج بھی ایسے سراغ نہیں ملتا جیسے کالی سپنی اپنے بل میں صرف تنکے چھوڑ جاتی ہے۔ پاکستانی جنرلوں نے وزیرستان میں مقامی جنگجو طالبان کیساتھ ایسا ’امن معاہدہ‘ کیا ہے جیسے علاقے میں آنیوالا نیا اور دبنگ تھانیدار بدمعاشوں سے اسی’چورسپاہی‘ اخلاقیات پر کرتا ہے کہ بس میرے علاقے میں وارداتیں نہیں کرنا اور آرام سے رہنا۔ کسی نے کہا اگر گیارہ سمتبر نہ ہوتا تو بش اور مشرف کیا کررہے ہوتے۔ دنیا کا کوئی بھی دہشتگرد ہو یا جہادی اسکے پاؤں کے نشانات پاکستان میں ہی جاکر رکتے ہیں۔ ’سب کے سب پاکستانی امریکی مخالف بھی ہیں اور امریکہ آنا بھی چاہتے ہیں‘، ایک پاکستانی نژاد امریکی نے کہا تھا۔ پانچ سال کے بعد اب امریکی میڈیا اور تھنک ٹینکنس میں بحث ہورہی ہے ’مشرف دوست ہے کہ دشمن‘۔ مشرف کے ہی مصاحب مشاہد حسین نے ہی ان کےلیئے ’القاعدہ‘ کو ’الفائدہ‘ کہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||