9/11 اور نیویارک کے مسلمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ ستمبر کے حملوں کو پانچ سال مکمل ہونے پر پیش کی جانے والی سیریز کے سلسلے بی بی سی کے سٹیفن ایونز نے نیویارک میں بسنے والے مسلمانوں سے بات کی تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ اس واقعے نے انہیں کس طرح متاثر کیا۔ نیویارک میں بسنے والے کئی مسلمان گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں تاکہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ امریکہ کے قومی دھارے میں وہ کہاں فٹ بیٹھتے ہیں۔
نفیسہ دیگانی کے کیس کو ہی لیجیئے، جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جنوبی ٹاور میں واقع انشورنس کمپنی اوون کے دفتر میں کام کرتی ہیں۔ گیارہ ستمبر کو جس وقت پہلا جہاز ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا اس وقت وہ اپنے دفتر میں ہی موجود تھیں۔ ’ہم سب نے کھڑے ہوکر باہر دیکھا کہ ایک طیارہ ٹاور ون سے ٹکرایا ہے۔ یہ ایسے ہی تھا جیسا ہمارے دفتر کی بلندیی پر ہماری آنکھوں کے بلکل سامنے ہو رہا ہو۔‘ ’ہم چند سییکنڈ تک حیران و پریشان کھڑے رہےگ ہم سب کا خیال تھا کہ یہ ضرور ایک حادثہ ہے۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ جہاز پائلٹ کے قابو سے باہر ہو کر ٹاور سے ٹکرا گیا ہے۔ یہ کیفیت صرف چند سکینڈ تک رہی۔ میں وہیں کھڑی رہی اور چند سیکنڈ بعد ایک شعلہ باہر کی جانب لپکا۔ میں نے آگ کو بہت قریب سے محسوس کیا۔‘ ’میں نے اپنا بیگ پکڑا اور چِلانے لگی -- دوڑو ..... دوڑو .....‘ اپنی اپنی جگہ پر موجود رہنے کی سرکاری ایڈوائس کے باوجود نفیسہ دیگانی نے اپنا ڈیسک چھوڑا اور نیچے اترنے لگی۔ ابھی وہ آدھی سیڑھیاں ہی اتری تھیں کہ دوسرا جہاز ٹاور سے ٹکرایا اور انہوں نے عمارت کو ہلتے ہوئے محسوس کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے اسلام پر ان کے اعتقاد کو مزید مضبوط کر دیا۔ انہوں نے ہائی جیکروں کے جذبے کے بارے میں بعد سوچا جنہوں نے ان کے دوستوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس سارے سوچ بچار کے بعد نفیسہ دیگانی نے ہائی جیکروں کے اسلام کو اپنی مذہب کی ایک بگڑی ہوئی شکل قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام کا مطلب ہی امن ہے۔ اب اس سارے معاملے میں امن کہاں ہے؟ یہ اسلام کے پیغام کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور ان خود کش دہشت گردوں کا۔ کوئی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘ ’اگرچہ یہ سب کچھ ہو تو اسلام کے نام پر رہا ہے لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے اس کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ نفیسہ دیگانی نے خود اپنی زندگی کو بھی ازسرِنو ترتیب دیا ہے۔ انہوں نے ہر اس چیز سے چھٹکارہ حاصل کر لیا جس ان نزدیک غیر اہم تھا۔ ان کی اپنے خاوند سے علیحدگی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ جس طرح نیویارک کے مسلمانوں نے اپنی زندگیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا، شہر کی مختلف کمیونٹیز بھی اسی عمل سے گزریں۔
یہ نظارہ اسی جگہ کے لیئے مخصوص نہیں ہے بلکہ پاکستان کی، جہاں سے آکر زیادہ تر خاندان یہاں آباد ہوئے ہیں، ہزاروں مسجدوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مسلم سنٹر کے امام شمسی علی کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں امریکہ سے لگاؤ کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور نئی نسل کی تربیت کرنا چاہتے ہیں جن میں سے، انہیں امید ہے‘ بڑے بڑے وکیل اور طب اور انجنیئرنگ کے پروفیشل سامنے آئیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ گیارہ ستمبر کے بعد نیویارک کے مسلمانوں میں زیادہ رواداری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ’گیارہ ستمبر سے پہلے میں جب پیش اماموں کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیئے جاتا تھا تو اماموں کا رویہ بڑا روکھا روکھا سا اور غیردوستانہ ہوتا تھا۔ لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے صورت حال کافی حد تک بدل گئی ہے۔ ’گیارہ ستمبر سے پہلے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افراد کو مسجدوں میں لانا بہت مشکل تھا لیکن صورت حال قطعی مختلف ہے۔ اب مسجدوں کے دروازے دیگر مذاہب کو ماننے والوں کے لیئے بھی کھلے ہیں اور ہم یہاں کئی انٹرفید سیمینار اور اجلاس منعقد کر چکے ہیں۔‘ نیویارک کے مسلم باسیوں کے اپنے مسائل بھی ہیں اور ان کی زندگی ایک کشمکش کا شکار نظر آتی ہے۔ ایک طرف ان کی یہ خواہش ہے کہ وہ امریکہ کے مرکزی دھارے کا حصہ بنیں اور دوسری طرف انہیں معاشرے کے کئی حلقوں کی طرف سے مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں دفتروں میں امتیازی سلوک اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ناگوار رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیویارک کی امریکن اسلامک ریلیشنز کونسل کے عمر محمدی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ ان کا کہنا کہ ان کے پاس مسلمانوں کے ایسے کیس آتے رہتے ہیں کہ انہیں نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ وہ ایک ایسے لڑکے کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں جنہیں ’اسامہ‘ نام ہونے کی وجہ سے سکول میں تنگ کیا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے مسلمانوں کے رویوں میں بنیادی تبدیلی دیکھی گئی ہے اور اب زیادہ مسلمان باقی امریکی معاشرے سے الگ تھلگ رہ کر زندگی گزارنے کو زیادہ سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ تاہم یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی مسلمانوں نے کس حد تک دوسری راہ اختیار کرلی ہو۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مقامی طور پر پنپنے والی دہشت گردی کے امکانات یورپ کی نسبت کم ہیں کیونکہ یہاں مختلف کمیونیٹیز زیادہ آسانی سے گھل مل رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وہ علاقے جہاں پاکستانی نژاد لوگ رہتے ہیں، وہاں بھی آپ کو ملی جلی آبادی نظر آئے گی۔ وہاں پاکستانی نژاد، ہسپانوی زبان بولنے والے اور انڈین نژاد لوگ ایک ہی گلی میں رہ رہے ہوں گے اور ان کی دکانیں بھی آگے پیچھے ہی ہوں گی۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ امریکہ میں آباد ہونے والے پاکستان نژاد لوگ معاشی طور پر زیادہ آسودہ ہیں بنسبت ان لوگوں کے جن میں سے زیادہ تر کشمیر کی غربت سے بھاگ کر برطانیہ میں آباد ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||