تحریر و تصاویر: ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | مشرف نے نئی دلی میں ہند و پاک کرکٹ مقابہ کا لطف لیا اور نئے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی |
پانچ سال قبل گیارہ ستمبر کو سات سمندر پار امریکی تنصیبات پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کے اثرات ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی نمایاں تھے۔ اس پانچ سالہ عرصہ میں گو کہ معمول کی ماردھاڑ اور عدم تحفظ کے ماحول میں کوئی تسلّی بخش تبدیلی نہیں آئی لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران کشمیر کی سیاست ایک ہمہ گیر انقلاب سے گزری ہے۔ مندرجہ ذیل سیاسی واقعات کے بارے میں اکثر مبصرین کا کہنا ہے وہ نائن الیون کا براہ راست نتیجہ تھے۔ •دو ہزار دو میں کنڑول لائن پر ہند و پاک افوج کے درمیان فائربندی کا معاہدہ۔ •جنوری دو ہزار دو میں پاکستانی صدر جنرل مشرف کی طرف سے جہادی کلچر کی کھل کر مخالفت اور یہ اعلان کی پاکستان کے زیر کنٹرول کسی بھی حصہ کو پڑوسی ملکوں کے خلاف تشدد کے لیئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ •اسی سال ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات۔ بعض علٰیحدگی پسندوں کی باالواسطہ الیکشن میں شرکت۔ پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا الیکشن ’صاف ستھرے‘ ہوئے۔ •دسمبر دوہزار دو میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر شدت پسندوں کا حملہ ۔ ہند پاک سرحد پر مہینوں آر پار کی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہیں اور جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ •کشمیر میں مفتی محمد سعید کی سربراہی میں بننے والی حکومت کا اعلان کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے پاکستان اور ملی ٹنٹوں کو بات چیت میں شامل کیا جا ئے۔ حریت کانفرنس کا اعلان کہ تشدد سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ •دو ہزار چار میں مشرف اور ہندوستانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان اسلام آباد میں سربراہ ملاقات۔ •میرواعظ عمر فاروق اور دیگر حریت لیڈروں کی حکومت ہند کے ساتھ دو ادوار کی بات چیت۔
 | | | دو ہزار پانچ میں چالیس سال بعد سرینگر اور مظفر آباد بس رابطہ بحال |
•دو ہزار پانچ میں چالیس سال بعد سرینگر اور مظفر آباد بس رابطہ بحال۔ مشرف نے نئی دلی میں ہند و پاک کرکٹ مقابہ کا لطف لیا اور نئے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کی۔ حریت لیڈروں کا دورہ پاکستان اور وہاں اعلان کہ کشمیر کے بارے میں غیر جذباتی موقف کی ضرورت۔ سیلف رول اور یونائٹیڈ سٹیٹس آف کشمیر جیسی تجاویز دی گئیں۔•دو ہزار چھ میں پہلی بار نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ سمیت کئی ہند نوار سیاسی لیڈروں نے پاکستان کا دورہ کیا۔ •اسی سال مقامی عسکری گروپ کے سربراہ اور جہاد کونسل کے چیرمین سید صلاح الدین کی طرف سے جنگ بندی کی آفر ہوئی جس میں انہوں نے کہا ہندوستان اپنی افوج کو انیس سو نواسی کی پوزیشن پر لائے تو ملی ٹنٹ حملے روک دیں گے۔
|