BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 August, 2005, 15:09 GMT 20:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میں نے دیکھا کہ ۔۔۔۔۔۔
11 / 9 کا سانحہ
’ مجھے لگا کہ حادثے نے ہمیں شکست دے دی ہے‘
نیویارک کے آگ بجھانے کے محکمے نے گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد جائے حادثہ پر پہنچنے والے فائر مینوں اور طبی امداد کے عملے کی یاد داشتوں پر مبنی مسودات عوام کے سامنے پیش کیے ہیں۔

ان مسودات سے اس سانحے کے موقع پر نیویارک میں پھیلی افراتفری اور بھگدڑ کا پتہ چلتا ہے۔ ایسے ہی کچھ انٹرویوز سے لیے گئے اقتباسات یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔

مینؤل دیلگاڈو

یہ نو بجنے میں پانچ منٹ کا وقت ہوگا جب مجھے ایک کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والا پوچھ رہا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں کیا ہو رہا ہے اور مجھے کچھ نہیں پتہ تھا۔

میں نے کمپیوٹر دیکھا تو 1040 (طیارہ عمارت سے ٹکرانے کا کوڈ) تھا۔

جب ہم بروکلین پل پر پہنچے تو یہ بات صاف تھی کہ کوئی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ عمارت میں ایک سیاہ خلا نظر آ رہا تھا اور اوپری دس منزلیں دھوئیں کی لپیٹ میں تھیں۔

ہم جب مغربی براڈوے پر پہنچے تو ایک خوفناک دھماکہ سنائی دیا۔ ہمیں اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ دوسرا طیارہ ٹکرایا تھا۔

میں نے فوراً سب سے کار سے باہر آ کر کہیں چھپ جانے کے لیے کہا۔ گلی کے کونے پر ایک پولیس کار کھڑی تھی جس پر ملبہ گرا اور وہ پچک گئی۔

اسی وقت ایک پولیس افسر ہمارے پاس آیا جو ایک سپاہی کو سہارا دیے ہوئے تھا جس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔

لوگ یا تو عمارت کی اوپری منزلوں سے گر رہے تھے یا انہوں نے چھلانگیں لگانی شروع کر دی تھیں۔ ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پولیس والوں نے ہمیں منع کیا کیونکہ یہ بہت خطرناک عمل تھا۔

لوگ(شمالی ٹاور سے) ہجوم کی صورت میں نکل رہے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ انسانوں کا ایک ریلا تھا جو دوڑ رہا تھا۔ مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی۔ ہمارے پاس ایمبولینس کم اور مریض زیادہ تھے اور ہم چار پانچ مریضوں کو ایک ایمبولینس میں بھر کر بھیج رہے تھے۔

ایک لمحے پر مجھے یاد ہے کہ ایک کارکن مجھ سے آکسیجن گاڑی سے نکالنے کے لیے مدد لینے آیا۔ میں اس کی مدد کر ہی رہا تھا کہ ایک آواز سنائی دی۔ ہم سمجھے کہ یہ ایک اور طیارہ ہے مگر اوپر دیکھا تو جنوبی ٹاور لرز رہا تھا اور ملبہ گر رہا تھا۔

اس وقت مکمل بھگدڑ کا عالم تھا اور میں نے سمجھا کہ میں مارا جاؤں گا۔ مجھے یاد ہے کہ میں بھاگا مگر کس طرف یہ یاد نہیں۔

یولسس گرانٹ، ڈویژن کمانڈر، فائر ڈپارٹمنٹ

مجھے یاد نہیں کہ میں نے کچھ سنا ہو تاہم مجھے گرد کا ایک بڑا بادل ضرور دکھائی دیا جو میری طرف آ رہا تھا۔ میں مڑا اور دوڑ پڑا۔ مجھے یاد ہے کہ دوڑتے ہوئے مجھے ایک ایمرجنسی ٹرک دکھائی دیا جو پیچھے سے کھلا ہوا تھا اور میں اس میں سوار ہو گیا۔ میرے ساتھ اور لوگ بھی ٹرک پر سوار ہوئے۔ ٹرک ملبے سے بھرتا جا رہا تھا اور ایک وقت ایسا تھا کہ مجھے اپنے آگے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔

زکٰری گولڈفارب، ڈویژن چیف، فائر ڈپارٹمنٹ

ہم کمانڈ پوسٹ پر تھے۔ چیف گانسی ( پیٹر گانسی جو اس سانحے میں ہلاک ہو گئے) بھی وہاں تھے۔ وہ اپنے ریڈیو کے کام نہ کرنے کی وجہ سے جھنجھلائے ہوئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ کہہ رہے تھے ’ یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کونسا چینل ہے؟ کیامیں درست چینل پر ہوں؟ یہ ریڈیو تو کام ہی نہیں کر رہا‘۔

بہت سارا ملبہ نیچے گر رہا تھا۔ جو چیز میں نے اپنے کام میں سیکھی وہ یہ ہے کہ گرتے ہوئے ملبے کی طرف نہ دیکھو کیونکہ جب آپ ملبے کو دیکھتے ہیں تو اس کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں اور آپ کا کام متاثر ہوتا ہے۔

ہم صحیح نقصان کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے کیونکہ ہم افقی سمت میں دو میناروں کو دیکھ رہے تھے جہاں گرد اور دھوئیں کے بادل تھے۔ یہ میری زندگی میں پہلا موقع تھا جب مجھے لگا کہ حادثے نے ہمیں شکست دے دی ہے۔ ہم جائے حادثہ پر انتظام سنبھالنے جاتے ہیں اور اس سانحے نے ہمیں پیچھے دھکیل دیا تھا۔

جیمز ڈفی، فائر فائٹر

میں نے بیس سے تیس افراد کو اوپری منازل سے چھلانگ لگاتے دیکھا اور وہ فٹ پاتھ، زمین اور ملبے سے ٹکرائے۔ ایک وقت میں پانچ سے چھ افراد چھلانگ لگا رہے تھے۔

ہمیں جنوبی ٹاور پر پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔ لیکن گرتے ہوئے ملبے اور چھلانگیں لگانے والے افراد کی وجہ سے ہمیں میریٹ ہوٹل کے کنارے والی جگہ سے جانا پڑا۔

جب ہم وہاں انتظار کر رہے تھے تو ہم نے شور سنا اور سینکڑوں افراد کو اپنی جانب دوڑ کر آتے دیکھا۔ یہ لوگ جنوبی ٹاور سے نکل کر میریٹ ہوٹل کی جانب دوڑ رہے تھے۔ ہم مڑے اور ہم نے بھی دوڑنا شروع کر دیا۔ ہم دس فٹ ہی دوری ہوں گے کہ ملبے نے ہمیں ڈھانپ لیا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ عمارت گر گئی ہے مجھے لگا کہ کوئی بم پھٹا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد