BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 August, 2005, 07:30 GMT 12:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
11 / 9 کا ریکارڈ عوام کے سامنے
فائر مین
گیارہ ستمبر 2001 کے حادثے میں 340 فائر مین مارے گئے تھے۔
نیویارک کی انتظامیہ گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں متعلق مواد عوام کےسامنے پیش کر رہی ہے۔

اس مواد میں گیا رہ ستمبر 2001 کے دن اور سانحے کے بعد آگ بجھانے کے عملے سے کی گئی بات چیت شامل ہیں۔

یہ مسودات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سےدائر کیے گئے ایک مقدمے کے بعد سامنے لائے گئے ہیں۔ اس سانحے میں مرنے والے فائر مین کے اہلِ خانہ اس مقدمے کی حمایت کر رہے ہیں۔

ان مسودات میں ڈسپیچرز اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر موجود آگ بجھانے کے عملے کے درمیان پندرہ گھنٹے کی ریڈیائی گفتگو بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان شواہد میں آگ بجھانے کے عملے کی بارہ ہزار صفحات پر مشتمل یاداشتیں بھی شامل ہیں جو اکتوبر 2001 میں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

نیویارک ٹائمز نے 2002 میں ان مسودات کو شائع کیے جانے کی درخواست کی تھی اور شہری انتظامیہ کے انکار پر اس سلسلے میں مقدمہ کر دیا تھا۔

نیویارک کی انتظامیہ نے عدالت میں ان کاغذات کے سامنے نہ لانے کی متعدد وجوہات بیان کی تھیں جن میں ان حملوں کے مشتبہ ملزم زکریا موساوی کے مقدمے کا متاثر ہونا اور آگ بجھانے والے عملے سے کیے گئے خفیہ معاہدے کا پاس رکھنا بھی شامل تھے۔

اس برس کے آغاز میں نیویارک کی اعلیٰ ترین عدالت نے حکم دیا تھا کہ زیادہ تر مسودات کو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے۔

ان مسودات میں سے کچھ پہلے ہی نیویارک ٹائمز میں شائع ہوچکے ہیں اور ان سے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد علاقے میں مچی افراتفری اور عوام میں موجود خوف اور گھبراہٹ جیسے عوامل سامنے آئے تھے۔

شائع ہونے والے مسودات میں آگ بجھانے والے عملے کی جانب سے اپنے پیاروں کا ساتھ چھوٹنے اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے شمالی ٹاور کے گرنے کے خطرے سے لاعلمی جیسے واقعات کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔

گیارہ ستمبر کے سانحے میں مرنے والے افراد کے لواحقین کا خیال ہے کہ ان مسودات کے سامنے آنے سے اس حکومتی نتیجے کو چیلنج کرنے میں مدد ملے گی جس کے مطابق آگ بجھانے والے حملے کے بہت سے اراکین نے تنبیہی اعلانات کو نظر انداز کرتے ہوئے لوگوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔

گیارہ ستمبر 2001 کے حادثے میں 340 فائر مین مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر وہ تھے جنہوں نے شمالی ٹاور کے گرنے کی خبر کو نظر انداز کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد