مدد،مؤکل کی یا دہشتگردی کی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک وکیل پر جیل میں سزا کاٹ رہے اپنے ایک موکل کے پیغامات اس کے ساتھیوں تک پہنچا کر دہشت گردی کی مدد کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے۔ 65 سالہ لین اسٹیورٹ ایک باغی مصری عالم عمر عبدالرحمان کی رہنمائی کر رہی تھیں جو دہشت گردی کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ عمر پر 1996 میں نیو یارک پر حملہ کرنے کی سازش کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ اسٹیورٹ نے کسی کی وکالت کرنے اور دہشت گردی کی حمایت کرنے کے درمیان فرق کو نہیں سمجھا۔ محترمہ لین اسٹیورٹ شہری حقوق کی ایک سینئیر وکیل ہیں اور کمرہ عدالت میں پر زور انداز میں اپنے بائیں بازو نظریات کے ساتھ مقدمے لڑنے کے لئے مشہور ہیں۔ وہ نیو یارک میں گزشتہ 30 برس سے وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اس دوران انہوں نے کئی باغیوں کی نمائندگی کی ہے۔ لیکن نابینا عرب عالم عبدالرحمان کے کیس میں وہ خود ہی گرفت میں آ گئیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ انہوں نے جیل سے عبدالرحمان کے پیغامات باہر کی دنیا میں اس کے باغی ساتھیوں تک پہنچا کر موکل کے ساتھ وکیل کو ملنے والی سہولت کا غلط استعمال کیا ہے۔ انہیں 15 سال قید کی سزا ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||